مینار پاکستان واقعہ،سیف سٹی کے کیمرے پولیس کیلئے معاون ثابت نہ ہو سکے

لاہور (نیوز ڈیسک )مینار پاکستان پر خاتون ٹک ٹاکر سے بدتمیزی کے واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔گریٹر اقبال پارک میں سیف سٹی کے کیمرے بھی خراب نکلے۔ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش میں سیف سٹی کے کیمرے پولیس کیلئے معاون ثابت نہ ہو سکے جس کے بعد پولیس سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کو شناخت کر رہی ہے۔مینار پاکستان گراؤنڈ میں 60 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جن میں 35 کیمرے خراب ہیں۔کیمرے وولٹیج کم زیادہ ہونے اور عوام کے پتھراؤ سے خراب ہو گئے۔ذرائع کے مطابق پولیس نے واقعے میں ملوث 100 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کی شناخت کے لیے نادرا کی مدد حاصل کر لی ہے۔اب تک 100 افراد کو میں لیا گیا ہے جب کہ ان میں سے 15 افراد کو نادرا اور فرانزک کی مدد سے شناخت کر لیا گیا ہے۔گرفتار کیے گئے افراد سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا عمل پورا کر رہی ہے۔جلد مزید افراد کی شناخت کا عمل پورا کر لیا جائے گا۔انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ مینار پاکستان واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت کیلئے تصاویر نادرا کو بھجوا دی ہے ، مقدمے میں عمر قید اور سزائے موت کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔اپنے بیان میں آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ خاتون پر تشدد ،دست درازی کرنے والے کسی رعائیت کے مستحق نہیں، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادپر یقینی بنائی جائے گی۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے چیئرمین نادرا کو فون کرکے ملزمان کی شناخت شروع کرنے کی درخواست بھی کی ہے اور ملزمان کی شناخت کیلئے تصاویر بھی بھجوا دی گئی ہیں، نادرا عملہ چھٹی کے باوجود ملزمان کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے۔انعام غنی کا کہنا تھا کہ ملزمان کو ثبوت،شواہد اکٹھے کر کے گرفتار کیا جائے گا تا کہ قرار واقعی سزا ملے، ملزمان پرجودفعات لگائی گئیں جس کی سزاعمر قید یاسزائے موت ہے ، تمام ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو براہ راست نگرانی کا حکم دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں