طالبان نے افغانستان اسلامی امارت کے قیام کا اعلان کر دیا

کابل(نیوز ڈیسک) طالبان نے افغانستان میں فتح کے 4 دن بعد افغانستان اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان کی جانب سے افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارات اسلامی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ بھی کیا۔ جس میں ایک تصویر شیئر کی ہے جس پر “دا افغانستان اسلامی امارات” لکھا ہوا ہے۔ تصویر میں امارات اسلامی کا جھنڈا اور سرکاری نشان بھی موجود ہے۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اسلامی امارت تمام ملکوں کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات

کی خواہاں ہے اور ہم نے کسی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ کسی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان پر برطانیہ کے متنازعہ تسلط کے 102 سال بعد وہاں امارتِ اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 اگست کا دن ہر سال ’’نوآبادیاتی سپر طاقتوں سے آزادی کے دن‘‘ کی حیثیت سے منایا جائے گا۔دوسری جانب افغان دارالحکومت کابل سے غیر ملکی شہریوں اور سفارتی عملے کا انخلا بھی جاری ہے جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اگست کے بعد بھی افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کا عندیہ دیا ہے۔ادھر امریکا نے افغان حکومت کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف اور جرمنی نے پیچیدہ صورتحال کے باعث افغانستان کے فنڈز روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے وزیراعظم بورس جانسن کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ طالبان کے حوالے سے کسی بھی قسم کا فیصلہ ان کے ردعمل کو دیکھ کر کریں گے۔چین نے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ ترکی نے واضح کر دیا ہے کہ جو کوئی بھی اقتدار میں ہو، ہم افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ ہم عالمی ردعمل دیکھ کر ہی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں