خودساختہ قائم مقام افغان صدر امراللہ صالح کا صوبہ پنج شیر سے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان

کابل (نیوز ڈیسک)افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے طالبان کے اقتدار کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے اور تاجکستان میں افغان سفیر نے طالبان کے اقتدار کو مسترد کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تاجکستان میں افغان سفیر ظاہر اغبار نے اپنے ملک میں طالبان کے اقتدار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے شمال میں واقع صوبہ پنج شیر مزاحمت کا گڑھ ہو گا اور وہاں خودساختہ قائم مقام افغان صدر امراللہ صالح اس مزاحمت کی قیادت کریں گے۔امارات افغانستان کے پہلے نائب صدر امراللہ صالح نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کے کابل پر

قبضے اور صدر اشرف غنی کے بیرون ملک فرار ہونے کے بعد اب میں افغانستان کا قانونی عبوری صدر ہوں۔امراللہ صالح کے ٹھکانے کے بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں ہے تاہم عین ممکن ہے کہ وہ پنج شیر میں ہی موجود ہوں۔سفیر ظاہر اغبار نے طالبان کے ہاتھوں شکست کا ذمے دار اشرف غنی کو قرار دیا اور ان کی جگہ اب سفارتخانے میں امراللہ صالح کی تصویر لگا دی ہے۔انہوں نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ طالبان جنگ جیت چکے ہیں، یہ صرف ڈاکٹر اشرف غنی ہیں جنہوں نے غداری کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کیے اور اقتدار چھوڑ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ امراللہ صالح کی قیادت میں صرف پنج شیر مزاحمت کرے گا اور ایسے تمام لوگوں کے خلاف جدوجہد کرے گا جو لوگوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔پنج شیر کی وادی میں اب بھی ان مسلح گاڑیوں کے ملبے کے ڈھیر موجود ہیں جنہیں 1980 میں سوویت یونین کے دور میں مجاہدین کے سابق رہنما احمد شاہ مسعود کی فوج نے تباہ کردیا تھا۔یہ علاقہ اس کے بعد آنے والی دہائی میں بھی طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا رہا اور اس شمالی اتحاد کا گڑھ تھا جس کی مدد سے امریکا نے 2001 میں طالبان کو شکست دی تھی۔البتہ یہ بات غیر واضح ہے کہ امراللہ صالح کی مزاحمت کس حد تک مؤثر ہو گی یا وہ طالبان سے سمجھوتے پر تیار ہو جائیں گے جو ابھی تک اس علاقے میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔امراللہ صالح کے سینئر ساتھی احمد شاہ مسعود کے 32سالہ بیٹے احمد مسعود کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ حامیوں کے ساتھ پنج شیر میں

موجود ہیں البتہ ان کے آئندہ اقدامات کے حوالے سے جاننے کے لیے ترجمان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔غیرمصدقہ اطلاعات کے بعد امریکا کے تربیت یافتہ کچھ دستے مزاحمت کے لیے اس علاقے میں جمع ہو رہے ہیں اور مبینہ طور پر امراللہ صالح کی قیادت میں لڑیں گے۔ممکنہ مزاحمت طالبان کی پوری ملک میں متفقہ حکومت کے قیام کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔یاد رہے کہ فارسی بولنے والے شمالی اور مغربی علاقوں کے تاجک باشندے جنوبی اور مشرقی پشتون کے سخت مخالف ہیں جو طالبان میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔تاجکستان میں افغان سفیر ظاہر اغبار نے کہا کہ اگر طالبان دوسروں کو امن کے ساتھ جینے دیتے ہیں تو ایک ایسی اتحادی حکومت کا ساتھ دینا ممکن ہے جو افغانستان کے تمام دھڑوں کی نمائندگی کرتی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں