اشرف غنی کی 42 سالہ بیٹی کس ملک میں پرتعیش زندگی گزار رہی ہیں؟حیران کن تفصیلات

نیو یارک (نیوز ڈیسک)مریم غنی جن کے والد مبینہ طور پر 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر نقد لے کر افغانستان سے فرار ہوئے ہیں اور انہیں انسانی بنیادوں پر دبئی میں پناہ دی گئی ہے۔ البتہ اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں اشرف غنی نے اس بات کی تردید کردی ہے۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 سالہ مریم غنی بروکلین کے کلنٹن ہِل میں ایک پرتعیش گھر میں رہتی ہیں۔ویژوئل آرٹسٹ اور فلم ساز مریم غنی امریکا میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی، ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ غیر روایتی طرز زندگی گزار رہی ہیں جو کہ افغانستان کی عام خواتین کی زندگی سے بہت مختلف ہے۔

مریم نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر رپورٹرز سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ امریکی شہریوں سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ ان افغانوں کی مدد کریں جن کی زندگیاں ملک میں طالبان کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔مریم غنی نے منگل کو سوشل میڈیا پر سوال وجواب کے سیشن میں پوسٹ کیا کہ ‘ہم ابھی افغان عوام کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟’مریم کہتی ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے غمگین اور خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے منتخب عہدیداروں سے رابطہ کریں اور افغان مہاجرین کی ملک بدری کو روکنے اور مہاجرین کے لیے خصوصی ویزوں کے اجرا کو تیز کرنے کی درخواست کریں۔مریم غنی نے لکھا کہ ہر اس شخص کا شکریہ جس نے پچھلے دنوں رابطہ کیا اور یکجہتی کی یہ میرے لیے بہت ہے اور میں سخت محنت سے کام کررہی ہوں تاکہ افغان عوام کیلئے کچھ کرسکوں۔انہوں نے مزید کہا کہ منتخب عہدیداروں سے رابطہ کرنے کے علاوہ لوگ تنظیموں کیلئے عطیہ یا رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں جو پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کرتی ہیں۔یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخل ہونے کے بعد اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے۔روس نے دعویٰ کیا تھاکہ اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوتے ہوئے اپنے ساتھ پیسوں سے بھری 4 گاڑیاں اور ایک ہیلی کاپٹر بھی لے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق سابق افغان صد ر کو کچھ پیسے چھوڑ کر بھی جانا پڑا کیونکہ ان کے پاس مزید پیسے رکھنے کی گنجائش موجود نہیں تھی لیکن اب اشرف غنی نے فیس بک پر قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے پیسوں سے بھرے بیگ ساتھ لے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں