ہنجروال کیس، ملزم ارسلان بچیوں کی عصمت دری کیلئے رات بھر جگہ ڈھونڈتا رہا

لاہور(نیوز ڈیسک) معروف صحافی فہد شہباز خان کی دنیا اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ہنجروال سے اغوا ہونے والی بچیوں کے کیس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان 6 سے زائد بچیوں فروخت کر چکے ہیں اور ان کے دبئی رابطے کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔کچھ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جو ملزم سونو کی طرف سے ایک بچی کے ساتھ زیادتی کے امکانات ظاہر کرتے ہیں،اس لیے ازسرنو میڈیکل بورڈ بنا کر گذشتہ روز بچی کا معائنہ کیا گیا۔زرائع کے مطابق ملزموں سے تفیتش کے دوران پتہ چلا ہے کہ چنگ چی رکشہ ڈرائیور ارسلان رات کے پچھلے پہر بچیوں سے زیادتی کے لیے جگہ ڈھونڈتا رہا۔

اس سلسلے میں ا س نے دوستوں سے رابطہ بھی کیا۔پولیس ارسلان کے موبائل ڈیٹا سے رفاقت تک پہنچی جو اس رات ارسلان کے ساتھ تھا۔اس نے بتایا کہ ارسلان بچیوں کو ہراساں کرتا رہا اور اس نے بچیوں کو ای ایم ای نہیں بلکہ پنڈی سٹاپ پر اتارا تھا جس سے پولیس تفتیش کو واضح سمت ملی۔پنڈی سٹاپ کی جیو فینسنگ سے مرکزی کردار کاشی کا سراغ ملا۔کاشی نے ہی بچیوں کو گھر لے جانے کے لیے منایا،اور بتایا کہ وہ بچیوں کو جی ون مارکیٹ میں صبح ہوتے ہی اتار دے گا۔دو بچیاں چنگ چی ڈرائیور ارسلان کی طرف سے دی گئی بوتل پینے کے بعد نیم بے ہوش ہو گئی تھیں۔کاشی کی بیوی نے رات بھر بچیوں کو فحش کہانیاں سنا کر ان کا ذہن تیار کیا۔کاشی نے ملزم شہزاد کو گھر بلایا جس کے بعد وہ بچیوں کو ساہیوال لے گئے۔پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے رکشے کا نمبر ڈھونڈے میں کامیاب کو گئی جو عدیل رمضان کے نام پر تھا جس نے پولیس چھاپے کی بابت کاشی کو بتائی جس پر ملزمان گھبرا گئے اور معاملہ نمٹانے کی کوشش کی۔اس دوران بچیوں نے اغوا ہونے کی خبر ٹی وی پر دیکھی ،ایک بچی کو چونکہ علیحدہ رکھا گیا تھا لہذا تینوں بچیوں نے واویلا کرنا شروع کر دیا۔ملزم شہزاد نے قحبہ خانوں پر پولیس کے چھاپوں سے ڈر کر الگ رکھی گئی بچی کو سونو کے حوالے کیا جو لڑکیوں کو رقص اور محفل کے آداب سکھانے میں شہرت رکھتا ہے،اسی نے 15 پر پلانٹڈ کال کروا کر بچیوں کو پولیس کے حوالے کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں