افغان حکومت کی طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے کی پیشکش

کابل(نیوز ڈیسک) افغان حکومت نے طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے کی پیشکش کردی۔ افغان میڈیا کے مطابق ملک میں خانہ جنگی روکنے کیلئے افغان حکومت کی جانب سے ایک نیا امن منصوبہ متعارف کروایا گیا ہے ، جس کے تحت اشرف غنی حکومت نے طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے کی پشکش کی ہے اور اس کے بدلے میں افغان حکومت نے طالبان سے فوری طور پر شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری طرف افغانستان سےمتعلق سامنے آنے والی تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل 3 ماہ کے اندر طالبان کے کنٹرول میں جا سکتا ہے ،

طالبان افغانستان کے دارالحکومت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور 30 دن کے اندر کابل کا محاصرہ کیا جا سکتا ہے کیوں کہ طالبان نے افغانستان کے اہم شہر پلِ خمری کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا اور طالبان دارالحکومت کابل سے تقریبا 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔مقامی عہدیداروں کے مطابق طالبان نے دارالحکومت کابل سے 140 میل دور شمال میں اہم افغان شہر پلِ خمری پر قبضہ حاصل کرلیا ہے جس سے طالبان کو دار الحکومت کابل کو شمال اور مغرب سے ملانے والے اسٹریٹیجک روڈ جنکشن کا کنٹرول مل گیا ہے اور اب تک صرف 5 روز کے دوران 9 صوبائی دارالحکومتوں پرقبضہ کرچکے ہیں ، صوبے فاراہ، ، بدخشاں ، بغلان ، نمروز ، جوزجان ، قندوز، سرائے پل ، تخار اورسمنگان پرطالبان کا قبضہ ہے ، اس سے قبل ایبک ، قندوز ، تالقان ، شبرغان او ر زرنج بھی طالبان کے زیر قبضہ آچکے ہیں جب کہ طالبان صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔مزید یہ کہ طالبان نے صوبے بلخ کے اطراف چاروں صوبوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس سے بلخ کے دارالحکومت مزارشریف پر بھی حملے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ، لڑائی میں تیزی آنے پر افغان شہر یوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کابل آمد کا رخ کررہی ہے جب کہ کئی علاقوں میں شہری گھروں میں محصور ہیں ، ادھر یورپی یونین عہدیدار کا کہناتھا کہ طالبان افغانستان کی65 فیصد علاقوں پرقبضہ کرچکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں