پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف ملک بھر میں تحریک چلانے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے، پہلا جلسہ 29 اگست کو کراچی میں کیا جائے گا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کا آسان طریقہ ہے، سلیکٹڈ حکومت کی انتخابی اصلاحات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے شہبازشریف، محمود اچکزئی، اویس نورانی، آفتاب شیرپاؤ ودیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی داخلی خارجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ملک اس وقت سنگین داخلی وی خارجی خطرات سے دوچار ہے، اس جعلی حکومت کو ملک کے اندر اورباہر ہر محاذ پر مکمل طور

پر ناکامی کا سامنا ہے، ملک کو داخلی مسائل کے ساتھ سنگین خارجی خطرات نے پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار بنا دیا ہے۔افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار سے ملک کے مفاد اور وقار کو تباہ کردیا گیا۔پی ڈی ایم حمایت کرتی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فریقین کے باہمی سیاسی مذاکرات سے ہے ، پاکستان کیلئے سیاسی اور مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر موجود اپوزیشن کوافغان مسئلے پر اعتماد میں لیا جائے گا، پارلیمنٹ ملک کا اہم حصہ ہے حقائق کو کیوں چھپایا جارہا ہے۔ مہنگائی کی مذمت کی ہے، حکومت مہنگائی ، بے روزگاری کے ریکارڈ توڑ دیے، آئی ایم ایف کی شرائط اور ظالمانہ ٹیکس سے عوام کا خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑا جارہا ہے۔پی ڈی ایم اجلاس میں آئندہ کے شیڈول پر اتفاق کیا گیا ہے کہ 21اگست کو سینیٹ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، یہ ساری تجاویز اجلاس میں پیش کی جائیں گی ، 28اگست کو کراچی میں سربراہی اجلاس ہوگا، 29 اگست کو پی ڈی ایم کے زیراہتمام جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ ملک کے اندر آئین کی حکمرانی مقصودہے، لیکن آئینی ادارے معطل بنا دیے گئے ہیں، اظہار رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، میڈیا پر قدغنیں اور صحافیوں پر حملے ہو رہے ہیں، اس کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام آئینی ادارے حدود میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں نبھائیں، دائرہ کار سے باہر کردار ختم کردینا چاہیے تاکہ ملک آئین کی پٹری پر دوبارہ چلنے کے قابل ہوسکے۔حکومت نے یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات کی بات کی،

الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کا آسان طریقہ ہے، انتخابی اصلاحات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ملک پر الیکشن چور سلیکٹڈ حکومت مسلط ہے، ان کی انتخابی اصلاحات کو مسترد کرتے ہیں، نیب اور ایف آئی اے سیاسی ادارے بن چکے ہیں، صرف اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیوں کیلئے استعمال ہورہے ہیں، میڈیااور صحافیوں پر قائم تمام مقدمات کو واپس لیا جائے۔پنجاب میں بلدیاتی نظام کو سپریم کورٹ نے بحال کیا لیکن ابھی تک اس پر عمل نہ کرنا توہین عدالت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں