دوہزار ارب ڈالرز لگنے کے بعد افغان فوج پتوں کی طرح کیوں بکھر رہی،فواد چوہدری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 2ہزار ارب ڈالرز لگنے کے بعد افغان فوج پتوں کی طرح کیوں بکھر رہی، افغانستان کے عوام تو غریب ہیں لیکن جرنیل ارب پتی ہیں، وفاقی وزیر فواد چوہدری نے امریکی عوام سے افغانستان کے حکمرانوں سے سوال کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری پیغام میں افغان فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے آٹھویں صوبے پر قبضے کے بعد افغانستان اور امریکی عوام کو افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے سامنے سوال رکھنا چاہئے کہ آخر افغانستان کو دئیے جانیوالے دو ہزار ارب ڈالرز کو زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا؟

انہوں نے کہا کہ اتنے پیسہ لگنے کے بعد افغان فوج پتوں کی طرح کیوں بکھر رہی ہے؟فواد چودھری نے کہا کہ یہ کیا ہے کہ افغانستان کے عوام تو غربت میں پس رہے ہیں لیکن افغانستان کے سیاستدان اور جرنیل ارب پتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان تمام کے بیرون ملک اربوں کے اثاثے ہیں،کرپشن کس طرح قوموں کو غرق کر دیتی ہے افغانستان اس کی مثال ہے۔واضح رہے کہ طالبان کی افغانستان کے دیگر علاقوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ طالبان نے افغانستان کے اہم شہر پُلِ خمری کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا اور طالبان دارالحکومت کابل سے تقریباً 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔مقامی عہدیداروں کے مطابق طالبان نے دارالحکومت کابل سے 140 میل دور شمال میں اہم افغان شہر پُلِ خمری پر قبضہ حاصل کرلیا ہےجس سے طالبان کو دار الحکومت کابل کو شمال اور مغرب سے ملانے والے اسٹریٹیجک روڈ جنکشن کا کنٹرول مل گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان 5 روز کے دوران 9 صوبائی دارالحکومتوں پرقبضہ کرچکے ہیں۔ صوبے فاراہ، ،بدخشاں ، بغلان ،نمروز ،جوزجان، قندوز، سرائے پل، تخار اورسمنگان پرطالبان کا قبضہ ہے۔اس سے قبل ایبک، قندوز، تالقان، شبرغان او ر زَرنج بھی طالبان کے زیر قبضہ آچکے ہیں جب کہ طالبان صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔ طالبان نےصوبے بلخ کے اطراف چاروں صوبوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس سے بلخ کے دارالحکومت مزارشریف پر بھی حملے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں