تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی تعداد آئے روز پاکستان میں بڑھتی جارہی ہے، کزنز میرج سے گریز کرنا ہوگا، ڈاکٹر اسرار انور

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی تعداد آئے روز پاکستان میں بڑھتی جارہی ہے اسکی بڑی وجہ کزنز میرج کا ہونا بھی ہے جس سے گریز کرنا ہوگا پاکستان میں اسکی روک تھام کے لیے آگاہی مہم چلانا ہوگی ان خیالات کا اظہار حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل رجسٹرار ڈاکٹر اسرار انور نے راولپنڈی وومن یونیورسٹی میں منعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ویبنار کا اہتمام عتیقہ شوکت، زرمینہ زیب سواتی اور عبیشہ ندیم نے پروفیسر محمد نسیم انور کے زیر نگرانی کیا ویبینار میں ملک بھر کے طلبا وطالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی آغاز میں زرمینہ نے تمام شرکاء اور مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور ویبینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے لیکچر شروع کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار نے تھلیسیمیا کے بارے میں بتایا اور اس بیماری کی بنیادی وجہ بیان کی انہوں نے بتایا کہ تھلیسیمیا کی دو اقسام ہیں ایک الفہ اور دوسری بیٹہ ہمیں ان سے کیسے بچنا ہوگا اور کونسی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہوگا اسکی بڑی وجہ کزنز میریجز بھی ہیں اور ان سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ایک مضبوط اور صحت مند نسل کو پروان چڑھایا جاسکے اس کے علاوہ شادی سے قبل تھلسیمیا کا ٹیسٹ لازمی کروانا چاہیے اور حکومتی سطح پر اسکی آگاہی ہونی چاہئیے کہ یہ ٹیسٹ شادی سے قبل لازمی کروائے تاکہ بعد میں پیدا ہونے والا بچہ اس مرض کا شکار نہ ہو ویبنار میں ملک بھر سے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں