تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو قومی خزانے سے تنخواہیں دیئے جانے کا انکشاف

اسلام آباد( نیوز ڈیسک )عمران خان نے اقتدر میں آنے سے قبل کفایت شعاری پالیسی اپنانے کا اعلان کیا تھا جس پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد عملدرآمد بھی کیا گیا۔ تنخواہوں میں اضافوں کو محدود کر دیا گیا جبکہ قومی وسائل کا استعمال بھی کم سے کم کیا گیا تاکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کی جائے تاہم اب پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کے لوگوں کو قومی خزانے سے تنخواہیں دئے جانے کا انکشاف ہوا۔تفصیلات کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد کو قومی خزانے سے تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اینکر پرسن بینش سلیم نے بتایا کہ آڈٹ رپورٹ میرے پاس ہے جس میں اُن چھ افراد کے نام بھی موجود ہیں جنہیں قومی خزانے سے تنخواہیں جاری کی جاتی رہیں۔بینش سلیم نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ان افراد میں عمران حیدر غزالی، سید مزمل حسن، عثمان بن ظہیر، شہباز خان، نعیم احمد یاسین اور سیدہ دھنک ہاشمی شامل ہیں۔یہ لوگ پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا چلاتے تھے ، ان لوگوں کو اگر سرکاری ملازم کہا جائے تو کم نہیں ہو گا۔ ان کے لیے میرٹ کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا کیونکہ میرٹ کم ازکم ماسٹرز ڈگری یا پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ دس سال کا تجربہ بھی درکار تھا۔ لیکن حکومت نے میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے بیچلر ڈگری ہولڈرز کو یہ پوزیشنز دیں اور نہ صرف ان کے لیے میرٹ کو پس پُشت ڈالا گیا بلکہ انہیں قومی خزانے سے تنخواہیں بھی دی جاتی رہیں جو موجودہ حکومت کی اپنی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ بینش سلیم نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں