میں اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کررہا ہوں،حامد میر کا بی بی سی کو انٹرویو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کے سینئرصحافی و کالم نگار حامد میر نے کہا کہ میں پاکستان میں خود کو خطرے میں محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئےسینئرصحافی حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان مجھ پر عائد پابندی کے لیے ذمہ دار نہیں لیکن وہ ایک بے بس وزیراعظم ہیں اور میری کی مدد نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، بہت سے نوجوان صحافی مایوس ہیں۔ میں پاکستان میں سنسر شپ کی مثال ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال پر غور کریں،

جب عمران خان 2018ء میں وزیراعظم بنے تھے تو پاکستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس پر 193 ویں نمبر پر تھا۔اور آج 2021ء میں پاکستان 145ویں نمبر پر ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان گذشتہ تین سالوں میں اس انڈیکس پر 6 پوائنٹس نیچے گیا ہے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق پاکستان کا شمار صحافت کے لیے دنیا کے 5 خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ پاکستان ، پاکستان کی ساکھ اور عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کے لیے اچھا نہیں ہے۔ پاکستان میں خوف کی فضا ہے کیونکہ پاکستانی صحافی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صحافت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اب عمران خان کی حکومت کچھ میڈیا مخالف قوانین متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو ہمارے لیے نا قابل قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف عمران خان کی حکومت جرنلسٹ پروٹیکشن بل لا کر اچھا کام کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ میڈیا ڈویلپمنٹ بل پر کام کر رہے ہیں جو جرنلسٹ پروٹیکشن بل کی مکمل نفی ہے۔ تو یہ تضاد ہے۔ جہاں تک وہ جرنلسٹ پروٹیشکن بل پر کام کر رہے ہیں ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں اور کریں گے، لیکن اگر وہ ہم پر میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے ذریعے سنسرشپ نافذ کریں گے اور تمام اختیارات وزارت اطلاعات کے پاس ہوں گے اور جناب فواد چوہدری پاکستان میں صحافیوں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے تو ہم ان پر تنقید کریں گے۔انٹرویو میں حامد میر نے کہا کہ میں پاکستان میں سنسر شپ کی جیتی جاگتی مثال بن چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف جیسے فوجی آمر نے بھی میرے ٹی وی پر آنے پر پابندی

لگائی لیکن میں اخبار میں لکھتا رہا لیکن اب موجود دورِ حکومت میں مجھے اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اب عمران خان وزیر اعظم ہیں اور بدقسمتی سے میرے صرف ٹی وی پر آنے پر پابندی نہیں بلکہ میں اپنے اخبار میں کالم بھی نہیں لکھ سکتا۔تو پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت نہیں ہے، اسی طرح آئین ہے اور آئین نہیں ہے۔ حامد میر نے دوران انٹرویو کہا کہ جب میں نے عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ان پر تنقید کی تو وہ مجھ سے خوش نہیں تھے لیکن ’میرے خیال میں عمران خان میرے خلاف پابندی کے لیے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ مجھے آف

ایئر کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ماضی کے وزرائے اعظم کی طرح طاقتور وزیر اعظم نہیں ہیں۔میرا خیال ہے عمران خان بے بس ہیں اور میری مدد نہیں کر سکتے۔ ہارڈ ٹاک کے میزبان سٹیفن سیکر نے حامد میر سے سوال کیا کہ آپ پر لگنے والے بغاوت کے الزامات ثابت ہونے پر آپ کو عمر قید بھی ہو سکتی ہے تو آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ جس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ ’میں عمر قید کی سزا کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ اگر وہ مجھے سزا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ویسے دنیا کو پہلے ہی معلوم ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے کیونکہ میں پاکستان

میں سنسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔ سب کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں، جن کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ سب کو معلوم ہے کہ مجھ پر پابندی کا کون ذمہ دار ہے۔ حامد میرنے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ میں اپنے بیانات سے پیچھے ہٹا ہوں بلکہ میرے وضاحتی بیان کا مقصد قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے جو تقریر کی اس کے بعد ’کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ میں پورے ادارے پر الزام لگا رہا ہوں۔ تو میں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کی تھی میں پورے ادارے کو الزام نہیں دے رہا بلکہ میں صرف چند افراد کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو میڈیا کی آواز کو

بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ حامد میر نے مزید کہا کہ مجھے اپنے ادارے جیو اور جنگ کے رویے سے مایوسی ہوئی لیکن میں ان کی صورتحال سمجھ سکتا ہوں۔’وہ پہلے ہی نشانے پر ہیں۔ تو میرے ایمپلائر کے سر پر تو پہلے ہی بندوق رکھی ہوئی ہے۔ تو جب انہیں حامد میر پر پابندی لگانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے مجھ پر پابندی لگا دی۔ میں ان کی پرابلم سمجھ سکتا ہوں۔ انٹرویو میں حامد میر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں میری جان کو خطرہ ہے لیکن میں ملک نہیں چھوڑوں گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں کافی عرصے سے اپنی ذاتی سکیورٹی خطرے میں محسوس کرتا ہوں۔

میں نے اپنی فیملی سے پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا تھا اور وہ چلے گئے۔ میری بیٹی اور بیوی پہلے ہی پاکستان چھوڑ چکی ہیں۔ مجھے بھی کئی لوگوں نے پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ میں پاکستان سے نہیں جاؤں گا۔ میں نے اپنی زندگی پاکستان میں فوجی آمروں کے سائے میں گزاری اور انہی حالات میں کام کیا ہے اور اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ قانون کی بالادستی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔اسی لیے ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح ایک ڈیموکریٹ تھے اور میں ان کا ایک پیروکار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو ہم سے میڈیا کی آزادی چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان کے دشمن ہیں، محمد علی جناح کے دشمن ہیں۔ خیال رہے کہ حامد میر کو مئی 2021ء میں صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر نامعلوم افراد کے تشدد کے بعد اُن کی حمایت میں منعقد ہونے والے ایک مظاہرے میں ان کے متنازعہ خطاب کے بعد سے پابندی کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں