ارشد ندیم کا فائنل سے قبل وہ کام جو جیولین تھرو فائنل میں شکست کا باعث بنا،ناکامی کی وجہ سامنے آگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے چیف ڈی مشن بریگیڈیئر ظہیر اختر کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث ارشد ندیم جیولین تھرو مقابلے کے فائنل میں میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ بریگیڈیئر ظہیر اختر نے کہا کہ اگر ارشد اقبال کی پوری توجہ فائنل پر مرکوز ہوتی تو وہ پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی پوزیشن میں تھے اور یہاں تک کہ گولڈ میڈل بھی جیت سکتے تھے ۔ارشد اقبال جیولین تھرو مقابلے میں 84.62 میٹر کے تھرو کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے جب کہ ان کے حریف بھارت کے نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر کے تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ حاصل کیا۔

بریگیڈیئر ظہیر اختر نے کہا کہ ارشد اور اس کے کوچ نے مقابلے کے فائنل سے پہلے مسلسل سوشل میڈیا کا استعمال کیا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی ٹاپ 3 میں جگہ نہ بن سکی۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ارشد کو اس کی ناقابلِ فہم صلاحیت اور کوالیفائنگ راؤنڈ میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے مقابلے کے فیورٹ میں شمار کیا جاتا تھا، جب اس نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 85 میٹر سے زیادہ کی تھرو کی تو گولڈ میڈلسٹ نیرج چوپڑا کو تربیت دینے والے ہندوستانی کوچ نے آن ریکارڈ کہا تھا کہ ارشد ان کے کھلاڑی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا جس میں گولڈ میڈل جیتنے کی تمام صلاحیتیں تھیں، یہ ارشد کی کوالیفائنگ راؤنڈ پرفارمنس کا اثر تھا جہاں اس نے مشکل سے اپنی پوری کوشش کی اور پھر بھی 85 میٹر سے لمبی تھرو کی، بھارتی کیمپ ارشد اور اس کی صلاحیت سے محتاط تھا۔بریگیڈیئر ظہیر اختر کا خیال ہے کہ پاکستان کیمپ کے اندر بے ضابطگی نے ارشد کو سونے کے تمغے سے محروم رکھا کیونکہ ان کے کوچ کو ان کی آخری تھرو کی زیادہ پرواہ نہیں تھی، ارشد اقبال کا کوچ اپنے آخری تھرو کے دوران فون پر بات کر رہا تھا جس کی وجہ سے ارشد نے جلدی میں تھرو پھینک دی۔ بریگیڈیئر ظہیر اختر نے کہا کہ اگر مزید پیشہ ورانہ مہارت ہوتی تو ارشد تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں