بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا پاکستان پردبائو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک نے جنوری 2022ء تک بجلی کے نرخ میں ڈھائی سے تین روپے فی یونٹ اضافے کے لئے دبائو بڑھادیا ہے،ورلڈ بینک نے ایک ارب ڈالرز قرضے کے اجرا کو بجلی کی قیمت میں اضافے سے مشروط کردیا ،روزنامہ جنگ میں خالد مصطفیٰ کی خبر کے مطابق ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف کا بھی اپنے6؍ ارب ڈالرز قرضے کے پروگرام کے لئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے لئے دبائو ہے، ورلڈ بینک اور وزارت توانائی کے اعلی حکام کے درمیان بات چیت میں ورلڈ بینک نے توانائی منصوبوں کے لئے ایک

ارب ڈالرز قرضے کے لئے یکم جنوری 2022ء سے ٹیرف میں اضافے کی شرط عائد کی ہے۔ وزارت توانائی کے ایک سینئر افسر کے مطابق جنہوں نے ورلڈ بینک مشن سے ملاقات کی ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکام نے اس بات کا اندازہ لگانا شروع کردیا ہے کہ بجلی ٹیرف میں ڈھائی سے تین ر وپے فی یونٹ اضافے کے بغیر آئی ایم ایف قرضے کی قسط جاری نہیں کرے گا،اسی طرح آئی ایم ایف کا 6؍ ارب ڈالرز کا امدادی پروگرام بھی معطل ہے۔ نائب صدر ہارٹوگ شیفر کی سربراہی میں ورلڈ بینک مشن کے ساتھ گزشتہ 4؍ اگست کو مذاکرات میں بینک کا تمام تر زور جنوری یا فروری 2022ء تک بجلی ٹیرف میں اضافے پر رہا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیرتوانائی حماد اظہر نے کی جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر بھی شامل تھے۔ تاہم ورلڈ بینک مشن کو بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر خاصے حساس ہیں اور وہی کسی قطعی فیصلے کے مجاز ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت خزانہ بھی فیصلہ ساز فورم ہے جو ٹیرف میں اضافے کی سفارش کرسکتا ہے۔ رواں مالی سال میں وزیراعظم عمران خان نے پاور ٹیرف میں اضافے کی اجازت نہیں دی جس کا براہ راست بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے تاہم اب دونوں بڑے مالی اداروں نے و اضح کردیا ہے کہ ٹیرف میں اضافے کے بغیر امداد بحال نہیں ہوسکتی۔ پاکستان نے ورلڈ بینک کو آگاہ کیا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے میں ماہانہ سطح پر کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں مزید کمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ رواں مالی سال 130؍ ارب روپے گردشی

قرضے میں جمع ہوئے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 408؍ ارب روپے کم ہے۔ رواں مالی سال میں وزارت خزانہ نے 330؍ ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ طلب 501؍ ارب روپے ہے تاہم پاکستان نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ وہ گردشی قرضے کو صفرکی سطح پر لے آئے گا جبکہ دسمبر 2020ء تک گردشی قرضے کو صفر پر لانے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزارت توانائی گردشی قرضے کے نظرثانی شدہ مینجمنٹ پلان پر کام کررہی ہے۔ حکومت اسے آئندہ 5؍ سال کے لئے ری اسٹرکچرکرنا چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں