ادویات کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ

پشاور(نیوز ڈیسک) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ایک دفعہ پھر 50 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ ادویات پر 15 سے 150 فیصد تک کیا گیا ہے جس میں شوگر و کینسر سمیت زیادہ تر ادویات جان بچانے والی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے رواں ہفتے میں یہ دوسری بار ادویات اور سالٹس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی بتایا جارہا ہے کہ بیشتر ادویات ڈرگ اسٹورز اور مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہیں جس کے بعد اب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ادویات کے پیک سائز اور ریٹیل قیمتوں میں اضافے سے ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہونے سے یہ مریضوں کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بار بار ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے غریب علاج کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے لہذا حکومت عوام پر رحم کرے اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے، اس سے پہلے بھی حکومت ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد اضافہ کر چکی ہے اب ادویات عوام کی خرید سے نکل چکی ہے. ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف مفت علاج کے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف ادویات کی قیمتوں میں آئے روز 100 فیصد اضافہ کر رہی ہے اور من پسند لوگون کو نواز رہی ہے، ادویات کی قیمتوں میں 12 ویں دفعہ اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔دوسری جانب نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے مہنگائی کے اعدادوشمار پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاہے کہ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 12.40 فیصد ہے۔ اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتہ میں 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، غیرسرکاری اعداوشمار اس سے زیادہ تشویشناک اور خوفناک ہیں،غریب اور دہاڑی دار طبقے کی زندگی مشکل ہو گئی ہے،ایسا لگتا ہے ملک میں تحریک انصاف کی نہیں مہنگائی کی حکومت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اندورنی سیاسی بحرانوں میں جکڑی ہوئی حکومت سے مہنگائی کا جن قابو کرنے میں ناکام ہے، اس حکومت کی ترجیح نہ غریب عوام ہے نہ ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں