خیبرپختونخواہ میں کورونا فنڈ میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف،رپورٹ سامنے آگئی

پشاور (نیوز ڈیسک)خیبر پختونخواہ میں کورونا فنڈ میں 3 ارب روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق خیبر پختونخواہ کورونا فنڈ میں 3 ارب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخواہ حکومت نے 18 ارب روپے سے زائد کورونا فنڈ لیے جس میں سے خیبر پختونخواہ حکومت نے 80 کروڑ روپے کی فرضی دوائیاں اور سازوسامان خریدا جب کہ مہنگی کورونا دوائیاں خریدنے پر صوبائی حکومت کو 10 کروڑ کا نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق 14 کروڑ روپے کے قرنطینہ

سینٹرز بنانے کے فنڈ میں بے ضابطگیاں ہوئیں جب کہ ماسک، کورونا سازوسامان اوردوائیاں خریدنے میں30 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔علاوہ ازیں وائرس سے مرنے والوں کے لیے مختص فنڈز میں بھی کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یاد رہے کہ قبل ازیں آڈیٹر جنرل نے بھی کورونا وبا کے لیے دئیے گئے مالیاتی پیکج میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا۔20 مئی 2021ء کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عالمی وبا کورونا کے دوران 12 کھرب روپے سے زائد کے پیکج میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ، اور آڈیٹرجنرل پاکستان نے بے ضابطگیوں کی تصدیق بھی کی۔ اس ضمن میں آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے لی دئیے گئے مالیاتی پیکج میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1 ارب 38 کروڑ ڈالر رقم فراہم کی تھی اور یہ رقم کورونا وبا کی روک تھام کے لیے پاکستان کی امداد کے طور پر فراہم کی گئی تھی، جب کہ حکومت نے آئی ایم ایف شرائط پر کووڈ اخراجات کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں