کشمیر میں جاری دو سالہ بد ترین لاک ڈاؤن انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے،دردانہ صدیقی

راولپنڈی(نمائندہ خصوصی) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کہا ہے کہ ظالم بھارتی افواج نےگذشتہ نصف صدی سے کشمیر پر فوج کشی کے ذریعے ظالمانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔ بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے- دفعہc -370 کے تحت کشمیر کی خود مختار حثیت ختم کر کے مستقل غلامی کی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش کے طور پردوسال سے جاری بد ترین لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کی مکمل نسل کشی کی – انہوں نے یہ بات 5 اگست کو کشمیر میں بد ترین لاک ڈاؤن کے دو

سال مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں کہی انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبا کو بھی کشمیریوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرچکا ہے.انہیں اس جان لیوا وبا کے دوران علاج , خوراک اور دیگر سہولیات سے محروم رکھا گیا – اسی طرح کے دوسرے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعےبھارت کشمیریوں کی نسل کشی کررہاہے-دردانہ صدیقی نے کہا کہ بھارتی فوج کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اوآئ سی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لاپرواہی اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے مگر پاکستانی عوام کے دل اہل کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں – دردانہ صدیقی نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں دو سال سے زائد عرصہ تک جاری لاک ڈاؤن اور ظلم وتشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند کروایا جائے -کشمیر یوں کو حق خود ارادیت دلوانے کے لئے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھائی جائے۔انہوں نے قوام متحدہ , او آئ سی اور بااثر قوتوں کو یاد دہانی کروائ کہ حالیہ کرونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن سے اقوام عالم کی معیشت , تعلیم اور کاروبار کس طرب روبہ زوال ہوئے ہیں , اس کے باوجود عالمی طاقتیں کشمیر میں جاری سخت لاک ڈاؤن پر بے حسی کا رویہ اپنائے ہوئےہیں – انہوں نے اقوام متحدہ , عالمی طاقتوں اور امت مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری بدترین لاک ڈاؤن , ریاستی دہشت گردی ختم کروانے اور کشمیر کی آزاد ریاستی حثیت کی بحالی میں اپنا متوقع کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں