وزیراعظم کو فون نہ کرنے کا معاملہ،پاکستان کے بار بار معاملہ اٹھانے پر امریکی ردعمل آگیا

لاہور(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے مشیر قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر جوبائیڈن پاکستانی قیادت کو نظرانداز کرتے رہے تو پاکستان کے پاس اور بھی آپشنز ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وزارت خارجہ کے سابق ترجمان اور بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے معید یوسف کے بیان کے بارے میں کہا کہ ایسے بیانات دینے سے اجتناب کرنا چاہئیے بلکہ ایسی باتوں کو عوامی سطح پر زیر بحث بھی نہیں لانا چاہئیے۔عبدالباسط سے جب پوچھا گیا کہ معید یوسف نے دوسرے ’آپشن ‘ یا دوسرے راستوں کا ذکر کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں

معید یوسف خود بہتر بتا سکتے ہیں صرف ٹیلیفون کال نہ آنے پر اس طرح کے بیانات دینا مناسب نہیں تھا۔ٹیلیفون کال کو پاکستان امریکا کے تعلقات میں ایک بڑا مسئلہ بنا دینا غیر سمجھداری کی بات کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن ابھی تک متعدد عالمی رہنماؤں سے ذاتی طور پر بات نہیں کر پائے ہیں۔وہ صحیح وقت آنے پر خود وزیراعظم خان سے بات کریں گے۔معید یوسف افغانستان کے بحرن پر بات چیت کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ، آئی ایس آئی کے سربراہ کے ہمراہ امریکا میں موجود ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، افغانستان میں امن کی بحالی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے۔نہ صرف امریکا بلکہ ہمارے بہت سے بین الاقوامی شراکت دار اور خطے کے بہت سے ممالک بھی پاکستان سے اس تعاون کے خواہاں ہیں۔ہم اس حوالے سے کام کرتے رہیں گے اور اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ قریبی بات چیت جاری رکھیں گے۔علاوہ ازیں پاکستان کے دفترخارجہ کے اعلی افسران اور سفارت کاروں نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کے امریکی صدر جوبائیڈن کی فون کال کے حوالے سے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بیان کو سفارتی آداب کے منافی اور غیرذمہ درانہ قراردیا ہے . سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا کہ سفارت کاری میں ملکوں کے درمیان اختلافات کو اس طرح سے کھلے عام بیان نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ ملکوں کے درمیان دوستیاں مستقل ہوتی ہیں ناں ہی دشمنیاں ‘انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی سب سے زیادہ برآمدات امریکا کو کرتا ہے اس لیے ہمیں پاک امریکا تعلقات پر بڑی احتیاط سے کرنی چاہیے.

اپنا تبصرہ بھیجیں