اکوڑہ خٹک کے مدرسے کو افغانستان کے مستقبل کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،افغان صدر

کابل(نیوز ڈیسک)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکوڑہ خٹک کے مدرسے کو افغانستان کے مستقبل کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے افغان پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کے خلاف عوامی حمایت کو متحرک کریں.انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا ہے اور اگلے چھ ماہ میں ملک میں بغاوت کی موجودہ لہر ختم ہو جائے گی صدر غنی کے دور میں یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمنٹ کا اس طرح کا غیرمعمولی اجلاس طلب کیا گیا.

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اکوڑہ خٹک میں قائم مدرسے سے ماضی میں بڑی تعداد میں افغان طالبان رہنما فارغ التحصیل ہوئے ہیں امریکہ کے دفتر خارجہ کے اعلان کردہ ایک پروگرام کے تحت مزید ہزاروں افغانوں کو، جو امریکی تعلق کی وجہ سے طالبان تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں، امریکہ میں پناہ گزین کے طور پر آباد ہونے کا موقع ملے گا.ادھر امریکی دفتر خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ وہ پہلے ہی ہمسایہ ممالک کے علاوہ (اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی) کے ساتھ بات چیت کر چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد کھلی رہے تاہم پناہ گزین ایران کے راستے ترکی بھی سفر کر سکتے ہیں. ہیومن رائٹس واچ کے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حقوق ڈویژن کے ڈائریکٹر بل فریلک نے کہا کہ ایران اور پاکستان نے اپنی سرحدوں پر سکیورٹی بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے افغانوں کے لیے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانا مزید مشکل ہو گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس طویل سرحد کو پار کرنا ناممکن نہیں لیکن خطرناک ضرور ہے.فریلک نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو مشکل علاقوں سے غیرمعمولی طور پر گزرنے پر مجبور کر رہے ہیں اور انہیں خود کو سمگلروں کے رحم و کرم پر ڈالنے پر مجبور کر رہے ہیں تو یہ بہت زیادہ خطرناک ہے ادھر افغانستان کے سرکاری نشریاتی ادارے نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے حوالے سے بتایا کہ ہرات سمیت مزار شریف اور قندھار کے لیے سول پروازوں کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور اس کے ڈائریکٹر آج صبح پرواز کے ذریعے ہرات گئے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں