وزیراعظم عمران خان امریکی حکومت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ این ڈی ایس، را اور سی آئی اے کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔افغانستان میں اگر اتفاق رائے سے کوئی حکومت قائم ہوتی ہے جو ملک میں استحکام لاسکے تو پاکستان اس کی سپورٹ کرے گا۔اگر افغانستان میں امن ہو گا تو خطے کو فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہ سیاسی اور ملٹری اعتباد سے امریکا اس خطے سے بے دخل ہو چکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان پر اعتماد کر سکتا ہے کیونکہ ایک ریاست کے دوسری ریاست کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں ، افراد کے ستھ نہیں ہوتے۔

تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا کہ امریکا کے اندر اس وقت افغانستان کی صورتحال نہیں بلکہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت پر بحث ہو رہی ہے کیونکہ امریکا نہیں چاہتا کہ چین آگے بڑھے ۔امریکا اس خطے میں افراتفری چاہتا ہے اس کا ٹارگٹ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا پہلی بار عمران خان اور ان کی حکومت نے امریکا کے خلاف نیشنل سٹینڈ لیا ہے یہ حکومت امریکا کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔پاکستانی قیادت نے بھانپ لیا ہے کہ امریکا ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔اس لیے ہم نے اچھی پالیسی اختیار کی ہے۔امریکا سی پیک میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس کو تباہ کرنے کے لیے آیا ہے۔خیال رہے کہ امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکا نے صورتحال بہت خراب کردی ہے۔وزیر اعظم نے امریکا کو افغانستان میں فوجی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسا کبھی تھا ہی نہیں۔انہوںنے کہاکہ مجھ جیسے لوگ جو کہتے رہے کہ فوجی حل ممکن نہیں، جو افغانستان کی تاریخ جانتے ہیں، ہمیں امریکا مخالف کہا گیا، مجھے طالبان خان کہا جاتا تھا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب امریکا کو یہ احساس ہوا کہ افغانستان میں کوئی فوجی حل نہیں ہے بدقسمتی سے امریکی اور شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن فورسز نیٹو، سودے بازی کی پوزیشن کھو چکے تھے۔انہوںنے کہاکہ امریکا کو بہت پہلے سیاسی تصفیے کا انتخاب کرنا چاہیے تھا جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب نیٹو فوجی موجود تھے۔

انہوںنے کہاکہ ایک مرتبہ جب انہوں نے فوج کو بمشکل 10 ہزار کر دیا تھا اور پھر جب انہوں نے انخلا کی تاریخ بتادی تھی تو طالبان نے سوچا کہ وہ جیت گئے ہیں اور اس وجہ سے اب انہیں سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہوگیا ہے۔جب انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ کیا ان کا خیال ہے کہ طالبان کی بحالی افغانستان کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے تو وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا واحد نتیجہ ایک سیاسی تصفیہ ہوگا جو جامع ہو۔انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ طالبان اس حکومت کا حصہ ہوں گے۔ہمسایہ ملک افغانستان کی صورت حال کو وزیر اعظم نے بدترین قرار

دیتے ہوئے کہا کہ جہاں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے تو وہاں پر یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ بدترین صورت حال ہے کیونکہ تب ہمیں دو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جن میں سے ایک مہاجرین کا مسئلہ ہے۔انہوںنے کہاکہ پہلے ہی پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور ہمیں جو خدشہ لاحق ہے وہ یہ ہے کہ ایک طویل خانہ جنگی مزید مہاجرین کو لائے گی اور ہماری معاشی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ ہم مزید آمد برداشت کرسکیں۔دوسرے مسئلے کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سرحد پار سے ہونے والی ایک ممکنہ خانہ جنگی ’پاکستان میں داخل ہوسکتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں