وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ، وزیراعظم ہاؤس میں فیشن نمائش ، عالمی اور مقامی کارپوریٹ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، وزیراعظم ہاؤس کو کرائے پر دینے کی بھی تجویز دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، وزیراعظم ہاؤس میں کمرشل سرگرمیاں شروع کی جائیں گی ۔وزیراعظم ہاؤس میں مقامی، عالمی فوڈ اور ثقافتی تقریبات منعقد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں فیشن نمائش اور دیگر تقریبات ہوا کریں گی ،

وینٹج گاڑیوں کی نمائش سے بھی آمدن حاصل کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ عالمی اور مقامی کارپوریٹ تقریبات کیلئے بھی پی ایم ہاؤس آفر کرنے کا منصوبہ ہے۔ذرائع کے مطابق اعلی سطح کی سفارتی تقریبات اور سیمینارز بھی اب پی ایم ہاؤس میں ہوا کریں گے ، وزیراعظم ہاؤس کا آڈیٹوریم، 2 گیسٹ ونگز اور لان کرائے پر دئیے جا سکیں گے ، وزیراعظم ہاؤس کو کمرشل مقاصد کے استعمال کے حوالے سے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔کمیٹیاں وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی اور ڈسپلن کو برقرار رکھنے کیلئے کام کریں گی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل جاری ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل جاری ہے، پی ایم ہاؤس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز قائم ہوگی۔انہوں نے بتایا تھا کہ پراجیکٹ کو پی ایس ڈی پی 2020 -2021 میں شامل کیا گیا ہے، منصوبے کا بنیادی فلسفہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ترمیم کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں