نواز شریف کی حمد اللہ سے ملاقات پر شہباز شریف ناخوش

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی ہارون الرشید نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کی حمداللہ سے ملاقات پر شہباز شریف نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر اور سیالکوٹ کے بعد پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ سندھ کو فتح کیا جائے مگر یہ وبا کا موسم ہے۔نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔وفاقی و سندھ حکومت نہیں چاہتیں کورونا پھیلے لیکن مشاورت ہونی چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ خواجہ فاروق کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ میں شکست و ریخت کا عمل بڑھ گیا۔

استعفے کی شہباز شریف تردید کر رہے ہیں نہ دوسرا گروپ۔ شہباز شریف کو موقع دینے سے مریم نواز اور نواز شریف کو فائدہ ہو گا لیکن لگتا ہے مریم چاہتی ہیں چچا مستعفی ہو جائیں۔چودھری برادران ساتھ دیں تو ن لیگ کے لوگ ان سے الگ ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی اپروچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت سے کیا ملا،اب پارٹی میں احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ یہی صورتحال رہی تو پارٹی بکھر جائے گی۔شہباز شریف اس بات پر بہت ناخوش ہوئے کہ کہ حمد اللہ محب سے ملاقات کی کیا ضرورت تھی،حاصل کیا ہوا؟خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے لندن میں افغان نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب سے ملاقات کی تھی ، جب ملاقات کی تصاویر سامنے آئیں تو نواز شریف کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ حمد اللہ محب نے کچھ عرصہ قبل پاکستان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال بھی کیا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا ، پاکستان نے اس صورتحال کے بعد حمداللہ سے کسی قسم کا رابطہ نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات پر سوشل میڈیا پر بھی سخت ردعمل دیکھنےمیں آیا ، وفاقی وزرا کی جانب سے بھی نواز شریف پر بہت زیادہ تنقید کی گئی۔مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ نواز شریف کو اس موقعے پر افغان سفیر سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے والے اور پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرنے والے افغان سفیر حمد اللہ محب سے ملاقات کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں