افغانستان میں خواتین کیلئے پہلا جم کھل گیا،مالک طالبان کی پیشقدمی سے پریشان

کابل (این این آئی )جنگ زدرہ افغانستان میں خواتین کے لیے جم کھل گیا، خواتین پرجوش انداز میں وہاں اپنی فٹنس و صحت کو بہتر بنانے کے لیے ورزش کے لیے آتی ہیں، تاہم جم کی مالک طالبان کی پیش قدمی کے باعث تشویش کا شکار ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ جم قندہار میں بنایا گیا ہے، جہاں پر ورزش کرنے کے لیے صرف خواتین آتی ہیں جبکہ یہاں ٹرینر بھی خواتین ہی ہیں۔ اس جم میں کام کرنے والی ایک خاتون ٹرینر کا کہنا تھا کہ انھیں یہاں کام کرکے کافی خوشی ہوتی ہے، وہ یہاں ورزش میں دیگر خواتین کی مدد کرتی ہیں اور خود بھی یہاں ورزش کرتی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہاں سے ٹریننگ کی مد میں جو کچھ بھی کماتی ہیں اس سے ان کا گھر چلتا ہے۔ جم کی مالک کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات پر تذبذب کا شکار ہیں، ہوسکتا ہے کہ خواتین کے کام کرنے اور ان جیسی خواتین کے کاروبار کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر طالبان متحرک ہورہے جس کی وجہ سے وہ اور ان جیسی دیگر خواتین کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔دوسری جانب طالبان افغانستان کے تین بڑے شہروں میں داخل ہو گئے اورن جنگجو ان شہروں کو سرکاری فورسز سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے تین بڑے شہروں میں طالبان کے حملے جاری ہیں،جنگجو افغانستان کے تین بڑے شہر ہرات، لشکر گاہ اور قندھار میں داخل ہو چکے ہیں۔لشکر گاہ سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ عسکریت پسند گورنر ہائوس سے چند سو میٹر کی دوری پر تھے لیکن انھیں رات تک واپس دھکیل دیا گیا۔یہ گذشتہ چند روز میں ان کی حملے کی دوسری کوشش تھی۔افغان فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ انھوں نے عسکریت پسندوں کو کافی حد تک جانی نقصان پہنچایا ہے۔افغان رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ طالبان کے حملوں سے ہزاروں افغان بے گھر ہو چکے ہیں اور قندھار میں گزشتہ 20 سال کی بدترین لڑائی جاری ہے۔ احمد کمین نے کہا کہ صورتحال ہر گزرتے گھٹنے کے بعد بدتر ہوتی جا رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ طالبان اب قندھار کو ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جسے وہ اپنا عارضی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

گل کمین نے کہا کہ اگر یہ شہر ان کے قبضے میں چلا گیا تو اس سے خطے میں موجود پانچ سے چھ صوبے بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔اگر یہ گر گیا تو اس علاقے کے پانچ یا چھ دوسرے صوبے بھی قبضے سے نکل جائیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگجو شہر کے مختلف اطراف میں موجود تھے اور وہاں بہت زیادہ شہری آبادی رہتی ہے۔گل کمین نے کہاکہ اگر طالبان شہر کے اندر چلے گئے تو پھر وہاں حکومتی فوج کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال ممکن نہیں ہو گا۔فغانستان کے مغربی شہر ہرات پر کنٹرول کے لیے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔

طالبان کے خلاف لڑنے والوں میں صرف افغان فوجی نہیں بلکہ دیگر طالبان مخالف جنگجو بھی ہیں۔ان جنگجوئوں کی قیادت اسماعیل خان نامی ایک بااثر مقامی کمانڈر کر رہے ہیں جنھیں مقامی طور پر امیر اسماعیل خان بھی کہا جاتا ہے۔ہرات شہر افغانستان کے اہم صوبے ہرات کا دارالحکومت ہے جس کی ایک طویل سرحد ایران کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے بھی نمایاں صوبہ ہے۔ملک کے مغربی حصے میں واقع یہ صوبہ افغانستان کا ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ اس پر قبضہ ہونا طاقت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

ہرات کے گورنر عبدالصبور قانی کا کہنا تھاکہ زیادہ لڑائی انجیل اور گزارا کے علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں ہوائی اڈہ بھی واقع ہے۔انھوں نے کہاکہ اس وقت لڑائی جنوب اور جنوب مشرق میں ہو رہی ہے۔ ہم احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں۔یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹامس نکلسن کے خیال میں صورتحال میں ابھی مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔انھوں نے بتایا کہ انھیں خدشہ ہے کہ طالبان اب ایک مرتبہ پھر امارتِ اسلامی کے قیام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ برطانوی افواج کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی انخلا سے افغان فوج کا مورال مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور طالبان ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔امدادی تنظیموں نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں اس جنگ کی وجہ سے غذا، پانی اور سہولیات کا بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے صوبہ نورستان میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں