عوام سے براہ راست گفتگو، سینئرصحافی نے چیک کرنے کیلئے وزیراعظم کو کال ملادی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے ساتھ براہ راست گفتگو کے دوران سینئر صحافی حبیب اکرم نے چیک کرنے کیلئے فون کال ملادی۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حبیب اکرم نے بتایا ہے کہ میں نے تو آزمانے کیلئے کال کی کیوں کہ میں دیکھا چاہتا تھا کہ واقعی براہ راست کال ملتی ہے یا نہیں ، جاننا چاہتا تھا کیا واقعی وزیراعظم براہ راست فون کالز لے رہے ہیں کہیں یہ کالز سینیٹر فیصل جاوید خان تو نہیں کرارہے لیکن یہ تو واقعی براہ راست کالز ہورہی ہیں ، اب مجھے یقین ہوگیا کہ وزیراعظم عمران خان واقعی براہ راست فون کالز کے جواب دے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں عوام سے براہ راست گفتگو کے دوران شہری نے وزیراعظم سے نور مقدم قتل کیس پر سوال پوچھ لیا ، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عوامی مسائل سننے کے لیے کی جانے والی براست گفتگو میں ایک شہری نے ان سے نور مقدم قتل کیس سے متعلق سوال کیا ، جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نورمقدم کیس کو پہلے دن سے خود دیکھ رہا ہوں ، نورمقدم کیس کی تمام تفصیلات لی ہیں ، نورمقدم کا قاتل کسی طور پر بچے گا نہیں ، کیوں کہ اس کیس سے سب کو ایک صدمہ لگا ہے ، کیس میں کوئی طاقتور سے بھی طاقتور ہو تو اسے سزا ضرور ملے گی۔وزیراعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں مزید کہا کہ این سی او سی کے درست فیصلوں کی بدولت کورونا کے باجود ہماری معیشت بہتر رہی ، عوام سے گزارش ہے کہ جہاں لوگوں کی بھیڑ ہو وہاں ماسک کا استعمال کریں، ماسک پہننے سے کورونا پھیلنے کے70 فیصد امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کورونا کا پھیلاؤ کم ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے اپنی معیشت بچا لیں، دیہاڑی دار، ریڑھی والے اور مزدور کیسے گزارا کریں گے ، لاک ڈاؤن کی وجہ آپ اپنے غریبوں کو کیسے بچائیں گے، جن کے بچے بھوکے ہوں گے کیا وہ گھر بیٹھ جائیں گے؟ ہمیں حکمت عملی اس مشکل وقت سے نکلنا ہوگا، لاک ڈاؤن کرکے ہم اپنی معیشت تباہ نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں