ایک گھنٹہ بچی کو رکشہ میں لے کر نشہ کرتا رہا، سفاک ملزم کا بیان

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ماہم کے ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ذاکر نامی ملزم نے بچی سے زیادتی اور قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔سفاک ملزم نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں بتایا کہ اس نے ساڑھے 11 بجے کے قریب بچی کو رکشے میں بٹھایا،ایک گھنٹہ بچی کو رکشے میں گھمایا اور نشہ کرتا رہا۔ساڑھے 12 بجے کے قریب بچی کو اتوار بازار گراؤنڈ لے کر گیا۔ملزم نے کہا کہ بچی زیادتی کے بعد بھی زندہ اور نیم بےہوش تھی۔اچانک بچی نے چھلانگ لگا دی جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ملزم نے مزید کہا کہ بچی کو

کچرے پر پھینکا اور بیوی سے کہا سواری لے کر گیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے ملتان کے ٹکٹ لیے اور کپڑے لینے گھر پہنچا تھا۔ملزم نے بیوی کو فون کیا وہ بچوں سمیت کراچی فرار ہونا چاہتا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ماہم کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم سیاسی جماعت کا کارکن بھی رہ چکا ہے۔واضح رہے کہ 28 جولائی کو کراچی میں سفاک شخص کی درندگی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہونے والی ننھی ماہم کے قاتل کو گذشتہ روز گرفتار کیا گیا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ماہم کے گھر جا کر اہل خانہ سے اندوہناک حادثے پر اظہار تعزیت کیا۔ ماہم کے اہل خانہ سے ملاقات میں گورنر سندھ نے ننھی بچی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ اس سے زیادہ ظلم نہیں ہوسکتا کہ بچی سےزیادتی پھر قتل کردیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں خوف کا سماں ہے، اس خوف کو ختم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر سندھ عمران اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ قتل کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد مرکزی ملزم کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں