اسلام آباد واقعہ، مرکزی ملزم عثمان مرزا نے بڑا اعتراف کرلیا

سلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت میں لڑکے لڑکی پر تشدد کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے والے کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا نے اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جرم کا ارتکاب کیا مگر معافی مانگ لی تھی،پولیس نے کسی بااثر کے کہنے پر گرفتار پہلے کیا اور ویڈیو بعد میں وائرل کی گئی،متاثرہ لڑکا لڑکی سے بھتہ نہیں لیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ چار پانچ لوگوں سے ان کا لین دین تنازعہ تھا تو انہوں اثر رسوخ استعمال کر کےپہلے گرفتار کروا کر پھر ویڈیو وائرل کروا دی،لڑکے لڑکی پر تشدد اور برہنہ ویڈیو بنانے کا جرم کیا تھا تاہم بعد میں ہم نے
معافی مانگ کر صلع کر لی تھی،دوسری جانب انہوں نے بتایا ایک روپیہ بھی بھتہ نہیں لیا اور نہ ہی بلیک میل کیا،ادھر دیگر ملزمان کی کمرہ عدالت میں خاندان والوں سے ملاقات کروائی گئی اور اس موقع پر ملزمان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالت جیل مینوئل کے تحت ملزمان کو سہولیات دینے کا حکم دے،جس پر ایڈیشنل سیشن جج وقار گوندل نے کہا کہ ملزمان کو جیل مینوئل کے تحت سہولیات دی جائیں اور پولیس کو ہدایت کی کہ ستمبر کے حتمی چالان بھی دیا جائے،کمرہ عدالت میں ساتوں ملزمان کے خاندان والوں کی جب ملاقات کروائی گئی تو اس موقع پر خواتین رونے لگ گئیں اور اپنے بھائیوں و بیٹوں کو پیار بھی دیتیں رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں