شہباز شریف نے پارٹی صدارت چھوڑنے کی دھمکی دے دی‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آزاد کشمیر انتخابات میں حکمت عملی نظر انداز کرنے پر شہباز شریف سخت ناراض ہوگئے ہیں اور انہوں نے پارٹی کی صدارت کا عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہےمسلم لیگ ن کے ذرائع نے ازخود ان افواہوں کی تردید یا تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ قومی موقر نامے میں شائع ایوب ناصر کی رپورٹ کے مطابق سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے روکنے پر فی الحال شہباز شریف خاموش ہیں،‏ حمزہ شہباز نے شہباز شریف کو معاملہ نوازشریف کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہےیہ بھی کہا جا رہا ہے

کہ آزاد کشمیر انتخابات میں شکست کے بعد مریم نواز اب کم از کم ایک سال تک خاموش رہیں گی۔ن لیگ میں دراڑ کے حوالے سے جب چیئرمین راجہ ظفر الحق اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال ،ترجمان مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ سے رابطہ کیا گیا تو چاروں میں سے کسی نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت اور وفاقی کابینہ کی فیصلے کی روشنی میں اہم شخصیات سے سکیورٹی اور پروٹوکول واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی زد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بھی آگئے ہیں جن سے اسلام آباد پولیس نے 2 گارڈ واپس لے لئے ہیں،مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف کو 3 گارڈز دیئے گئے تھے ایک ان کی رہائش گاہ منسٹرکالونی میں ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے جبکہ 2 اس وقت ڈیوٹی پر ہوتے تھے جب شہباز شریف اسلام آباد میں موجود ہوتے تھے تو دونوں اہلکار ان کی سکیورٹی پر تعینات ہوتے تھے کیونکہ ان کا بطور اپوزیشن لیڈر عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تھا اس لئے انہیں یہ سہولت دی گئی تھی تاہم وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کے حکم پر اسلام آباد پولیس نے انہیں واپس بلا لیا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کو قومی اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزراء کے تعینات سکیورٹی گارڈز کی تعداد پہلے ہی کم کر دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں