وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی داروں کو کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی داروں کو کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے 2اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق جس کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تعلیمی ادارے 2 اگست سے کھول دئیے جائیں گے، تعلیمی اداروں کے اسٹاف کیلئے کورونا ویکسینشن لازمی قرار دی گئی ہے۔دوسری جانب حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں نجی و سرکاری سکولز 2 اگست سے کھولنے کا اعلان کر دیا ۔ تفسیلات کے مطابق وزیرتعلیم پنجاب مرادراس نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں

کرونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت کروائی کی جائے گی ۔ ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ 2 اگست سے لڑکوں کے سکول صبح ساڑھے 7 بجے لگیں گے اور چھٹی ساڑھے 12 بجے ہو گی جبکہ لڑکیوں کے اسکول صبح پونے 8 پر لگیں گے اور چھٹی پونے ایک بجے ہو گی۔مرادراس نے کہا ہے کہ سکولز میں صرف 50فیصد تک طلبہ کو بلانے کی اجازت ہو گی ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر و سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر( این سی او سی) اسد عمر نے کہا ہے کہ جو اساتذہ ویکسی نیٹڈ نہیں وہ یکم اگست سے سکولوں میں نہیں پڑھا سکیں گے،31 اگست کے بعد ویکسی نیٹڈ عملے کے بغیر ٹرانسپورٹ نہیں چل سکے گی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ کئی لوگ اب بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کیسزکی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ملک بھرمیں کورونامثبت کیسزکی شرح7.5 فیصد ہے، تشویشناک مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں دبائو بڑھ رہا ہے، بالخصوص کراچی میں کوروناکیسزمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کراچی میں 50 فیصد بیڈز پر کورونا مریض موجود ہیں۔سندھ حکومت کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ، کورونا روکنے کے لئے سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے،

اگر وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے فورسز کی مدد چاہتے ہیں تو ہم فوج سمیت تمام فورسز دینے کے لئے تیار ہیں سندھ اور بلوچستان میں ایس اوپیز پرعملدرآمد سب سے کم نظر آتا ہے، ملک بند کر کے وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے، کورونا سے بچنے کا واحد حل صرف احتیاط ہے۔اسد عمر نے کہا کہ یکم اگست سے ہوائی سفر کرنے والوں کے لئے کورونا ویکسین لازمی قرار دے دی گئی ہے اور اس حوالے سے پہلے بتایا جاچکا ہے، لیکن اب 31 اگست تک 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے کورونا ویکسینیشن لازمی ہوگی، وہ اساتذہ جنہوں نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی وہ 31

جولائی تک ویکسینیشن کرالیں ورنہ اسے کے بعد وہ اسکولوں میں نہیں جا سکیں گے، کیوں کہ ہم بچوں کی صحت خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ سربراہ این سی او سی نے بتایا کہ 31 اگست سے ڈرائیور ہیلپر، اسٹاف بسس چلانے والے وہ افراد جنہوں نے ویکسینیشن نہیں کرائی انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، پبلک سیکٹرز اور دفاتر میں جانے والے، میرج ہال، ہوٹل میں کام کرنے والے، بسز، ٹرین، کوسٹرز چلانے والے اور ان کا عملہ، چائے خانے، بینکس نادرا آفس، مارکیٹس اور دکانوں میں کام کرنے والوں کے لئے بھی 31 اگست آخری تاریخ ہے۔ سربراہ این سی اوسی نے کہا کہ شہر

بند کرنا اس وبا کا علاج نہیں، ویکسینیشن موجودہ حالات سے نکلنے کا واحد حل ہے، اور یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ ویکسینیشن کرارہے ہیں، گزشتہ روز ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کی ویکسینیشن ہوئی جو نیا ریکارڈ ہے، صرف پنجاب میں پانچ لاکھ سے زائد ویکسین لگائی گئی، اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی ویکسینیشن میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے، دس لاکھ ویکسی نیشن روزانہ کو کراس کرنا ہمارا ہدف ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے جبکہ کراچی میں

ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ جب ہم بہتر صورتحال تھے تب جون میں ایسے مریضوں کی تعداد 2 ہزار سے نیچے تھی جو اب ایک واضع اضافہ ہے جس کی بنیادی بڑی وجہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کورونا کے کیسز میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور شہر میں قائم کورونا کے انتہائی متاثرہ افراد کے لیے مختص کْل بیڈز میں سے 50 فیصد زیر استعمال ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے واضح کیا کہ بڑے شہروں میں کورونا کے کیسز کے بڑھنے سے اس کا دباؤ ہسپتالوں پر پڑ رہا ہے، کراچی میں نجی ہسپتال پر دباؤ زیادہ ہے اور اگر صورتحال ایسے ہی برقرار رہی تھی نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں