انتخابات میں شکست پرنام بدلنے کے سوال پر عطا ء اللہ تارڑ کا دلچسپ ردعمل

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سیالکوٹ کے حلقہ پی پی38 کے ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ ن کو ضمنی الیکشن میں شکست ہونے پر مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کی ایک پُرانی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے 10 سے 12 ہزار کے ووٹوں سے پی پی 38 کا ضمنی انتخاب جیتنے کا چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ میرا یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں نجی ٹی وی چینل کے اس پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے عثمان ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے ناصر حسین شاہ اور مسلم لیگ نون کے عطا تارڑ موجود تھے۔

گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے عثمان داڑ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں ایک اور ضمنی الیکشن ہورہا ہے میں وہاں آرہا ہوں ،میں اوپن چیلنج کرتا ہوں کہ ضمنی الیکشن میں مقابلہ کریں، اللہ کے فضل سے اگر 10 ،12ہزار کی لیڈ سے نہ ہرایا تو میرا نام عطا تارڑ نہیں ہے۔اسی حوالے سے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دو مہینوں سے انتخابی مہم کا حصہ تھا،رولر یونین کونسل سے لے کر عربن یونین کونسلز میں گیا اور منظم مہم چلائی لیکن ہمارا مقابلہ پنجاب کی پوری بیوروکریسی سے تھا۔پی ٹی آئی کے امیدوار وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری کے داماد تھے،میں آپ کو بتا نہیں سکتا کوئی ایسی یونین کونسل نہیں جہاں ڈولپمنٹ کا سامان نہ پڑا ہو۔مجھے الیکشن سے دو دن قبل گرفتار کیا گیا جبکہ اس صبح میرے پولنگ ایجنسٹ کی ٹریننگ تھی۔مجھے حوالات میں پیغام پہنچایا گیا کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے یہ طاہر خورشید کے حکم پر ہوا، جب تمام سرکاری وسائل کو ایک حلقے میں استعمال کیا جائے گا ، پیسے بانٹے جائیں گے تو ایسا ہی ہو گا۔جب ان سے الیکشن میں شکست کے بعد نئے نام سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نام بدل لیا تو وزیراعظم کو بھی خودکشی کرنا پڑے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں