سعودیہ میں پاکستانی ڈیلیوری بوائے انتہائی گھناؤنی حرکت پر گرفتار

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں کورونا وبا کے دوران کئی مہینوں کا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد مملکت بھر میں ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بند کر دیئے گئے تھے، تاہم ان کے ذریعے لوگوں کو گھر گھر فوڈ ڈلیوری کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دوران مملکت میں آن لائن فوڈ ڈلیوری کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ گھر بیٹھے مختلف فوڈ پوائنٹس سے اشیائے خور و نوش منگواتے ہیں۔سعودی ویب سائٹ المرصد کے مطابق ایک پاکستانی فوڈ ڈیلیوری بوائے کو انتہائی گھناؤنی حرکت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے

کے بعد ہوئی جس میں وہ کھانے پینے کی اشیاء پر تھوکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کو رپورٹ کر دی جس کا نوٹس لیتے ہوئے ریاض پولیس نے پاکستانی فوڈ ڈیلیوری بوائے کو گرفتار کر لیا ہے جس کی عمر 25سے 30 سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔ریاض پولیس کے ترجمان میجر خالد الکریس نے بتایا کہ ایک فوڈ ڈلیوری سروس کے ایشیائی کارکن کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں یہ شخص قہوے کے کپ ڈلیور کرنے سے پہلے ان میں تھوک پھینک کرانہیں آلودہ کرتا نظر آ رہا تھا۔اس ویڈیو کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین سخت مشتعل ہوئے اور اس شرمناک حرکت کرنے والے کارکن کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ویڈیو دیکھنے کے بعد اس کارکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم پر مقدمہ چلانے کے لیے اسے پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد پاکستانی کارکن پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل تُرکی کے ایک شہر میں بھی فوڈ ڈلیوری بوائے کو پیز ا ڈلیور کرنے سے قبل اس پر تھوکنے کا انکشاف ہوا تھا۔ ملزم ایک رہائشی بلڈنگ میں پیزا ڈلیور کرنے آیا تھا، جس نے گراؤنڈ فلور پر یہ حرکت کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔ اتفاق سے یہ حرکت پیزا منگوانے والے شخص کے بھانجے نے دیکھ لی اور یوں اس شخص کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ ملزم کو کئی سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں