نور مقدم کیس، وکلاء برادری میدان میں آگئی،ر مقدم کا کیس بلامعاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کئی وکلا نے نور مقدم کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ۔ان وکلاء میں ایک نام سیف الملوک ایڈووکیٹ کا بھی ہے جنہوں نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہائی دلوائی تھی۔سیف الملوک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا ہوں کہ نور کے دوست کون ہیں جو کیس لڑنے کے لیے رقم کی درخواست کررہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ میں نور مقدم قتل کیس مفت میں لڑنے کے لیے تیار ہوں۔میں مفت میں نور مقدم کے کیس کی پیروی کر سکتا ہوں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے کے متعدد وکلاء نے بھی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ بلا معاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی پیروی کرنے والی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہ خاور کا کہنا ہے کہ وہ تمام وکلاء کے اس جذبے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن مقدمے کی پیروری کے لیے تو ایک، دو وکلانے ہی پیش ہونا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے موکل چاہیں گے اس وقت تک وہ اس مقدمے کی پیروی کرتے رہیں گے۔دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال کوثر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم قتل کیس کی تحقیقات میں پولیس پر کوئی دباؤ ہے نہیں لیا جائے گا۔ افضال کوثر نے بتایا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو پرائیویسی کے تحت سامنے نہیں لارہے ہیں، کیس کی تحقیقات قابل افسران پر مشتمل ٹیم کررہی ہے۔خیال رہے ک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بہیمانہ انداز میں قتل کی جانے والی سابق سفیر کی صاحبزادی نور مقدم کے قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کو آج اسلام آباد سے لاہور لایا گیا جہاں پنجاب فرانزک سائنس لیب میں ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ مکمل کر لیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیسٹ سے قبل ملزم بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ کرتا رہا۔ ٹیسٹ کے دوران ظاہر جعفر سے بیس سوالوں کے جواب لیے گئے۔ٹیسٹ کے دوران بھی ملزم ظاہر جعفر مختلف حیلے بہانے کرتا رہا جس سے تفتیش ٹیم کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ ظاہر جعفر کا پولی گرافک ٹیسٹ سائنس لیب کے ماہرین نے کیا۔ ملزم کے پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ اسلام آباد پولیس کو بھجوائی جائے گی۔

لیب میں واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک بھی کیا گیا۔ ٹیسٹ کے بعد پولیس ملزم کو لے کر اسلام آباد روانہ ہو گئی ہے۔ملزم کو نور مقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر عبد الستار سخت سکیورٹی میں لاہور لائے تھے۔ یاد رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد میں تھانہ کوہسار کے علاقے سیکٹر ایف سیون فور میں نوجوان خاتون کو لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔ خاتون کو تیز دھار آلے سے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ لڑکی کا گلا کاٹنے کے بعد سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا گیا تھا۔واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی سینئر افسران اور متعلقہ ایس ایچ او موقع واردات پر پہنچے اور تحقیقات کیں۔

قتل میں ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کو موقع واردات سے گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا گیا اور وقوعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ظاہر جعفر معروف بزنس مین ذاکر جعفر کا بیٹا ہے اور مقتولہ نور مقدم کا دوست تھا۔ پولیس نے مقدمے میں مزید چار دفعات بھی شامل کر دی ہیں۔ملزم کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی سیکشن سیکشن 109، 176، 201، 511 دفعات شامل کی گئی ہیں۔ 26 جولائی کو قتل کے واقعہ سے جُڑے دیگر 4 ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ 26 جولائی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی تکمیل کے بعد 27 جولائی کو ملزم کو ڈسٹرکٹ اینڈ

سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا اور دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے ظاہر ذاکر جعفر کے ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع دے دی اور ہدایت دی کہ ملزم کو 28 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ملزم ظاہر ذاکر جعفر کو سخت سکیورٹی میں عدالت کے احاطے میں لایا گیا ، ملزم کی پیشی کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کمرہ عدالت میں اندھیرا چھایا رہا۔ موبائل کی روشنی میں ہونے والی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ مقتولہ نور مقدم کا پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا ہے جبکہ اس کے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ

بھی برآمد کر لیا گیا ہے،دوران سماعت ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں چیخنا شروع کردیا اور کہا کہ مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔جس پر عدالت نے ملزم کو کمرہ عدالت کے اندر آنے کی ہدایت کردی۔ کمرہ عدالت میں موجود ملزم کے وکیل انصر نواز مرزا نے عدالت سے کہا کہ تفتیشی افسر نے 7 روز کے جسمانی ریمانڈ کی جبکہ ظاہر ذاکر جعفر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس پہلے ہی 5 دن کا ریمانڈ حاصل کرچکی ہے جبکہ مقدمہ میں مقتول اور ملزم دونوں کے موبائل فون نمبرز موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں