حلیمہ باجی ایسے کپڑے نہ پہنا کریں، پاکستانی مداحوں کے مشورے پر ترک اداکارہ کے صبر کا پیمانہ لبریز

استنبول (نیوز ڈیسک) ترک اداکارہ اسرا بلجیک نے پاکستانی مداح کو کھری کھری سنا دیں۔تفصیلات کے مطابق ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی نے پاکستان میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے تھے۔ارطغرل غازی کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی ہوم پر یکم رمضان سے نشر کیا گیا تھا۔اس ڈرامے کے کردار پاکستانیوں کے دلوں میں رچ بس گئے ہیں۔یہاں تک کہ پاکستانیوں نے ڈرامے میں نظر آنے والے کرداروں کو آئیڈلائز کرنا شروع کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر ترکش ڈرامہ نشر ہونے کے بعد پاکستان میں ڈرامے کے کردار و خصوصا حلیمہ اورارطغرل غازی کے خوب چرچے جاری ہیں۔

بعد ازاں پاکستانی صارفین کی جانب سے ان اداکاراؤں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی فالو کیا جانے لگا ہے۔تاہم ڈرامے کے برعکس اداکاراؤں کو کو مغربی لباس میں دیکھ کر پاکستانیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے ترکش اداکار اور اداکارہ کے اکاؤنٹ پر ان کے لباس پربے جا تنقید شروع کردی ہے۔یہی لوگ اب ترکش اداکاراؤں کو کو سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے درس دینے لگے ہیں۔پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ ایسے لباس کیسے پہن سکتی ہیں جو حلیمہ سلطان کی شخصیت کے خلاف ہیں۔تاہم پاکستانی صارفین یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ بنیادی طور پر وہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ڈرامے میں صرف ایک کردار کو نبھا رہے ہیں جن کا ان کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ترک اداکارہ اسرا بلجیک نے اگرچہ اپنی کچھ تصاویر پر تبصروں کا آپشن بھی محدود کر دیا تھا تاہم حال ہی میں جب ایک پاکستانی مداح نے انہیں لباس کے حوالے سے مشورہ دیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اور کپڑوں کے بارے میں پوسٹ پر مداح کواُنہیں ان فالو کرنے کا مشورہ دے دیا۔ سوشل میڈیا صارف نے اسرا بلجیک کی میکسی میں بنائی گئی تصویر پر انہیں اس طرح کا لباس نہ پہننے کا کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ بھی انہیں چھوٹا سا مشورہ دیں کہ وہ انہیں فالو نہ کریں ان کی بہت مہربانی ہو گی۔اسریٰ بلگیچ نے پہلی بار ان کے لباس پر تنقید کرنے والے شخص کو جواب دیا ہے لہذا ان کا یہ کمنٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ جہاں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حلیمہ پر تنقید کرنے والے شخص کو برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ پاکستانیوں کو کسی

کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دینی چاہیئے، پاکستانیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے اور بے عزتی کرواکر سکون مل گیا وغیرہ۔ وہیں کچھ لوگ اس شخص کی حمایت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس نے حلیمہ کو بڑی بہن کی طرح عزت دیتے ہوئے صرف ایک مشورہ دیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.