علی زیدی اور فیصل واوڈا کو سیاست کی بجائےکامیڈی کرنی چاہیئے،مفتی منیب الرحمن

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے فیصل واوڈا اور علی زیدی کو سیاست کی بجائے کامیڈی کرنے کا مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے کراچی پر قیامت گزر گئی، لیکن وفاقی وصوبائی وزراء کو بیانات سے فرصت نہیں، پی ٹی آئی کراچی کے اعتماد پر پورا نہ اتری تو عوام آئندہ سبق سکھا دیں گے،کراچی کے نمائندوں علی حیدر زیدی اور فیصل واوڈا کو مسخرا ہونا چاہیے، انہوں نے کبھی کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں۔یہ صورف فوٹو سیشن کیلئے آتے ہیں۔میں وزیراعظم کو کہتا ہوں کہ کراچی کا مینڈیٹ آپ کے پاس ہے، پی ٹی آئی کراچی کے

اعتماد پر پورا نہ اتری تو عوام آئندہ سبق سکھا دیں گے۔ دارالعلوم امجدیہ میں ممتاز علمائے اہلسنت مفتی محمد جان نعیمی ، مفتی محمد رفیق حسنی،مفتی محمد الیاس رضوی ،صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی ،علامہ رضوان نقشبندی ،مفتی عابد مبارک ، علامہ سید مظفر شاہ ،مولانا بلال سلیم قادری ، ثروت اعجازقادری اور تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ اہلِ کراچی پر ایک قیامت گزر گئی۔جبکہ وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات میں مصروف رہیں، یہ اہلِ کراچی کے ساتھ نہایت سنگ دلانہ رویہ ہے ۔ حکومتوں کی نا اہلی تو ہمارے ہاں ایک مسلم امر ہے ، لیکن اس سال مون سون بارشوں کا سلسلہ بھی غیر معمولی رہا ،بعض اخبارات کے مطابق نوے سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ ایریاز کالینڈ کنٹرول کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس ہے، مگر ڈی ایچ اے میں اس کا انفرااسٹرکچر بھی ناکام ثابت ہوا اورتاحال اس کی نکاسی نہیں ہوسکی۔کراچی کے کئی علاقوں میں پانی گھروں ، دکانوں اور مساجد کے اندر چلا گیا ،لوگوں کا گھریلو اور تجارتی سازوسامان حتی کہ بیٹیوں کا جہیز تک برباد ہوا، بعض علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو نکالا گیا، بعض مقامات پر مکان گرے اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں، بعض لوگوں کی لاشیں نالوں سے ملیں ، یہ انسانیت کے لیے ایک اذیت ناک امر ہے۔وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتیں اپنا اپنا دامن جھاڑ کر دوسروں کو ذمے دار قرار دیتی رہیں، بلیم گیم کا سلسلہ جاری رہا، بعض وفاقی وزرانے کراچی کے دورے کیے ، لیکن فوٹو سیشن کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔

یہ دکھی انسانیت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور صوبہ سندھ کی حکومت سے ہمارامطالبہ ہے کہ کراچی کے المیے کو معمولی نہ سمجھا جائے، شہر کا انفرااسٹرکچر برباد ہوچکا ہے ، سڑکیں ناکارہ ہوچکی ہیں ،سیوریج لائن کا نظام فیل ہوچکا ہے ، پانی کی سپلائی ضرورت سے کم ہے ،موبائل سروس، انٹرنیٹ اور بجلی کا نظام بھی بالکل ناکام ہوچکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک کو نہ وفاقی حکومت کی کوئی پروا ہے اور نہ ہماری اعلی عدالتوں کی، لوگ حیران ہیں کہ اس ادارے کے پیچھے کون سی غیبی طاقت ہے کہ حکومت اس پر ہاتھ

ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور کوئی باز پرس بھی نہیں ہورہی، من مانے بل وصول کیے جارہے ہیں ، ان کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے اور خیانت اور دھوکا دہی سے عوام سے لی گئی رقوم واپس ہونی چاہئیں۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہم نے 29جولائی کو اسی ہال میں پریس کانفرنس کر کے قومی سلامتی کے اداروں کو نہایت دردِ دل کے ساتھ متوجہ کیا تھا کہ ملک کو کسی داخلی یا بین الاقوامی سازش کے تحت فرقہ ورانہ تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے ، لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہماری گزارشات پر توجہ نہیں دی گئی ۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ عام مجالس میں صحابہ کرام کی

توہین کا گستاخانہ اور مجرمانہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے ،اس کے محرکات غیر ملکی بھی ہوسکتے ہیں اورملک کے اندر بھی کوئی ایسی طاقت ہے جو مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے، ایک مجرم کو توراتوں رات برطانیہ بھیج دیا گیا ہے ،لوگ بعض وفاقی اور صوبائی وزرا کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں اور ہمیں اس میں کوئی نہ کوئی صداقت نظر آرہی ہے۔چنانچہ اسلام آباد میں بھری مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی بات کی گئی اور کراچی میں نمازِ ظہرین کے بعد لاڈ اسپیکر پر صحابہ کرام پر لعن طعن کی گئی ،جو سوشل میڈیا اور بعض چینلز پر براہِ

راست نشر ہوئی ، پاکستان کی تاریخ میں ماضی میں ایسی ناپاک جسارت کرنے کی کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔ ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علی ہِ وآلِہِ وسلم ، ناموسِ اہلبیتِ اطہاروناموسِ صحابہ کرام رِض وان اللہِ اور ناموسِ مقدساتِ دین کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف اتحاد، اخوت اور رواداری کے پیغامات دیے جائیں اور دوسری طرف زبانوں سے نفرت اور فتنہ انگیزی کے شعلے اگلے جائیں ، اب یہ منافقت نہیں چل پائے گی۔ وزیرِ اعظم کی ذمے داری ہے کہ اپنی صفوں کا جائزہ لیں اور پتا چلائیں کہ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کے لیے حکومت کی

صفوں میں موجود کون سے عناصر مصروفِ عمل ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہم ایک بار پھر وزیرِ اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کو براہِ راست متوجہ کر رہے ہیں کہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے۔ اگر فوری تدارک نہ کیا گیا تو پہلے مرحلے پر ہم کراچی میں تاریخ کی سب سے بڑی پرامن ریلی کا اہتمام کریں گے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.