خاوند اور بیوی ایک دوسرے کی جاسوسی کیلئے کیمرہ لگواسکتے ہیں؟

ریاض(نیوز ڈیسک ) میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ اگر اس رشتے میں اعتماد اور بھروسا نہ رہے تو تعلقات میں تلخی پیدا ہو جاتی ہے جس کے اثرات ساری زندگی باقی رہتے ہیں۔ سعودی عالم اور شوریٰ کونسل کے جج نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کی جاسوسی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ گھروں میں نگرانی کی خاطر کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرہ لگوانا کیسا ہے۔جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر گھر کی حفاظت کے لیے کیمرہ لگوایا جائے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر گھر کے ملازمین یا ملازماؤں پر چوری کا

شک شُبہ ہو یا ان کی حرکات مشکوک ہوں تو اس کی خاطر بھی کیمرہ لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ خود کو نقصان سے بچانے کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں۔ تاہم میاں اپنی بیوی کی نگرانی یا جاسوسی کے لیے کیمرہ یا نگرانی کی کوئی اور ڈیوائس نہیں لگوا سکتا، اسی طرح بیوی کو بھی اپنے خاوند پر نظر رکھنے کے لیے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔اسی طرح اپنے بچوں کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے بھی کیمرہ لگوانے کی اجازت نہیں، خصوصاً اگر وہ بالغ ہوں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی وزارت انصاف کے مطابق جون 2020 کے دوران 4079 طلاق نامے جاری ہوئے۔ پچھلے سال کی نسبت طلاق کی شرح میں 96.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ بارہ ماہ کے دوران ماہانہ 134 سے لیکر 7500 تک طلاق نامے جاری ہوئے۔معروف سعودی وکیل عاصم الملا نے سعودی عرب میں طلاق کے بڑھتے ہوئے اسباب کے حوالے سے کہا کہ کئی وجہ سے طلاق کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ نئے جوڑوں میں نااتفاقی بہت زیادہ ہے جبکہ گھریلو مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ایک اہم سبب یہ ہے کہ شوہر سے بیگمات کی فرمائشیں بہت زیادہ ہورہی ہیں جن کی وجہ سے شوہر مالی دباوٴ میں آکر طلاق دے رہے ہیں۔عاصم الملا نے طلاق کے مزید اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شوہر کی بدسلوکی، نشہ آور اشیا کا استعمال اور بیوی پر تشدد بھی طلاق کے اہم اسباب ہیں۔عاصم الملا نے طلاق کے بڑھتے ہوئے رواج کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی مشورے بھی دیے۔ اہم مشورہ یہ ہے کہ شادی سے قبل دولہا دلہن کو رشتہ زوجیت کی اہمیت، آداب اور طور طریقوں کی بابت خصوصی کورس لازمی قرار دیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.