پی ٹی آئی دورحکومت میں با اثرشخصیات اور کمپنیوں کے کروڑوں روپے کا قرض معاف ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں با اثرشخصیات اور کمپنیوں کے کروڑوں روپے کاقرض معاف ہونے کا انکشاف ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق با اثرشخصیات اور کمپنیوں کے کروڑوں روپے کا قرض معاف ہونے سے متعلق سٹیٹ بینک کی انسپکشن رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کردی گئی ، جس میں کہا گیا ہے کہ 4 بینکوں کی جانب سے 1 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد قرض معاف ہوئے جب کہ سرکاری بینک کی جانب سے بعض افراد اور کمپنیوں کو نوازنے کے لیے خلاف ضابطہ قرض معاف کیے گئے۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ رقم کی

تفصیلات سامنے آگئیں، حکومت نے پچھلے9 ماہ میں قرض اور سود کی ادائیگی پر10 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، اس رقم میں 8 ارب 93 کروڑ ڈالر قرض جبکہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر سود ادا کیا، گزشتہ سال قرض و سود کی ادائیگی پر14 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے ، اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں حکومت نے قرض و سود کی ادائیگی کیلئے 10 ارب 63 کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں ، اس خطیر رقم میں 8 ارب 93 کروڑ ڈالر قرض اور ایک ارب 70 کروڑ ڈالرسود کیلئے ادا کیے گئے ، گزشتہ مالی سال میں قرض و سود کی ادائیگی کیلئے 14 ارب 57 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔دوسری جانب شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں کے حجم میں جاری مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 7.42 فیصد کی شرح سے بڑھوتری ہوئی ہے ، اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال جون کے اختتام پرشیڈول بینکوں کے مختصرمدتی قرضوں کا حجم 8202328 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا تھا، مئی 2021 کے اختتام پر شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں کا حجم بڑھ کر8811004 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا، گیارہ ماہ کے عرصے میں شیڈول بینکوں کے مختصرمدتی قرضوں کے حجم میں 7.42 فیصد کی شرح سے بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ، اپریل کے مقابلے میں مئی میں شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں میں 1.68 فیٓصد کی شرح سے بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں