پنجاب حکومت نے بجٹ پیش کردیا، سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری

لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-22 کا مجموعی 2653 ارب کا بجٹ پیش کردیا گیا، بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کیلئے 560 ارب، تعلیم اور صحت کیلئے 205 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تنخواہ پنش میں10 فیصد اضافہ، 25 فیصد خصوصی الاؤنس کا اعلان کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر میں بتایا کہ آج میں اس مقدس ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے چوتھے بجٹ اور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں پہلی تقریر کا اعزاز حاصل کر رہا ہوں۔پنجاب اسمبلی کی اس نئی عمارت کے 16سال سے زیر التواء منصوبے کی تکمیل کا سہرا بلاشبہ جناب اسپیکر آپ کے سر ہے جس کے لیے میں آپ کو قائد ایوان اور تمام اراکین اسمبلی کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جناب سپیکر ! پنجاب حکومت وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالی بحران اور بد ترین وباء کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے جس کی منزل عوامی خوشحالی اور صوبے کی یکساں ترقی ہے ۔پنجاب حکومت کا نئے مالی سال کا بجٹ حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کے منشور کے عین مطابق اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہے ۔لیکن اس سے قبل کے میں معزز ایوان کو بجٹ کی تفصیلات سے آگاہ کروں میں انھیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آج سے تین سال قبل جب پاکستان کی عوام نے وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ملک تاریخ کے بد ترین مالی بحران سے دوچار تھا۔مالی و تجارتی خسارے ،بڑھتے ہوئے گردشی قرضے او ر گرتے ہوئے معاشی اشارئیے(Indicators) سابقہ حکومت کی ناقص پالیسیوںاور ان سے جنم لینے والی بدعنوانیوں کی تصدیق کر رہے تھے۔ پنجاب سپیڈ کی زیر قیادت بہترین کارکردگی کی سند وصول کرنے والا صوبہ 56ارب روپے کے واجب الاداء چیکس، 41ارب روپے کے اور ڈرافٹس اور8,000 سے زائد نامکمل سکیموں کے ساتھ نئی حکومت کا منتظر تھا۔وسائل کا بیشتر حصہ نمائشی منصوبوں کی نظر ہو چکا تھا۔ قرضوں سے کھڑے کیے گئے انفراسٹریکچر کی ترقی کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا تھا ۔ پیداواری شعبہ پر کی جانے والی سرمایہ کاری بھی برائے نام تھی۔ نئی حکومت کو درپیش چیلنجز میں سر فہرست سوشل سیکٹر کی بحالی،معاشی ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم تھی ۔ان تمام مسائل سے نمٹنے کے دو ہی راستے تھے پہلا راستہ سیاسی سرمائے کی قربانی کا تھا اور دوسرا عوامی سرمائے کی۔جناب سپیکر!مجھے فخر ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے راستے کا انتخاب کیا اور مالی پالیسیوں کی اصلاح کی راہ اختیار کی۔ ناقص منصوبوں کو ختم کر کے وسائل کے موثر استعمال پر توجہ مرکوز کی ۔نئی سکیموں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے جاری اخراجات پر کنٹرول اور وسائل میں اضافے کی تدابیر کی گئیں۔اس سے قبل کے یہ اصلاحات معاشی ترقی کی راہ ہموار کرتیں کوویڈ کے اچانک حملے نے معاشی منظر نامے کویکسر تبدیل کر دیا۔بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی کوویڈکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔
جناب سپیکر !تحریک انصاف کی حکومت نے اس وباء کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ کوویڈ کے دوران پاکستان کی حکمت عملی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ۔ ہم نہ صرف اپنی شرح اموات پر کنٹرول میں کامیاب رہے بلکہ اپنے معاشی استحکام کو بھی یقینی بنایا ۔اس وقت جب دنیا بھر کے ممالک سماجی و معاشی سرگرمیاں معطل کیے ہوئے تھے وزیر اعظم عمران خان اپنے ملک کے غریب عوام کے روزگار کی بحالی کے لیے کوشاں تھے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مستحق خاندانوں میں راشن اور امدادی رقوم تقسیم کی جا رہی تھیں ۔پنجاب واحد صوبہ تھا جس نے ان مشکل حالات میں عوام کا ساتھ دیا اور کوویڈ سے بحالی کے لیے 106ارب روپے کا پیکج متعارف کروایا جس کے تحت کاروباری طبقہ کو روزگار کی بحالی کے لیے56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے عوام پر کی گئی یہ سرمایہ کاری رائیگاں نہیں گئی۔جناب سپیکر! میرا ایمان ہے کہ یہ امدادی پیکج سے مستفید ہونے والے لاکھوں خاندانوں کی دعائیں ہی تھیں جو آج معاشی ترقی کے تمام اشارئیے بہتری کی جانب گامزن ہیںپاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق GDPکی شرح میں اضافے کا تخمینہ% 3.94 لگاگیا ہے جو IMF اور ورلڈ بینک کے لگائے گئے تخمینے سے زیادہ ہے ۔ زرعی، صنعتی اور سروسز سیکٹر ز کی ترقی میں پنجاب کا مرکزی کردار ہا۔پاکستان کی Per Capita Income 13.4% اضافے کے ساتھ 1543ڈالر ہو چکی ہے۔ رواں مالی سال کے اختتام پرRemittances)29 ارب ڈالر اور برآمدات25ارب ڈالر کوپہنچ چکی ہو ں گی ۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ اس وقت کاروبار کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ تمام اعدادو شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میںمعاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ جناب سپیکر!بحیثیت صوبائی وزیر خزانہ میں یہاںیہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ پنجاب میں کوویڈ کی موجودگی ،56ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پیکج اور مشکل معاشی صورتحال کے باوجود صوبائی محصولات کی مد میں نمایا ں بہتری آئی۔
روا ں مالی سال میں صوبائی محصولات کا ہدف 317ارب روپے تھا جس کے مقابلے میں 359ارب روپے اکٹھے کر لئے جائیں گے ۔ یہ اضافہ 13.1%بنتا ہے۔اس طرح کے غیر معمولی معاشی حالات میں صوبائی محصولات میں اس قدر اضافہ کو ئی معمولی بات نہیں ہے۔ ۔۔۔۔ سکیڑ میں شرح ٹیکس کم کرنے کے با وجود پنجاب ریونیو اتھارٹی نے رواں سال اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جو پچھلے سال کی ۔۔۔۔۔۔زیادہ ہے جو ان غیر یقینی حالات میں کسی بھی ریو نیو اتھارٹی کی بہترین کار کردگی ہے۔ جنابِ اسپیکر! یہا ں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بورڈ آف ریونیو نے قبضہ مافیہ کے خلاف کاروائیاں کر کے اربوں روپے کی سرکاری زمینوں کو واگزار کروایا۔ اس ضمن میں محکمہ اینٹی کرپشن کی کاروائیوں سے صوبے کو 206ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ میٹرو بس کے منصوبہ میں کنٹریکٹرز کی تبدیلی سے 8ارب 20کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔
وباء کے دوران صوبائی حکومت کی بہترین معاشی حکمت عملی اور جاری اخراجات پر کنٹرول کی روش نے وسائل میں 97ارب روپے سے زائد اضافے کو ممکن بنایا۔ جنابِ اسپیکر!مجھے یہاں یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2,653ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے جو پچھلے مالی سال سے 18فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال میں وفاقی محصولات کی وصولی کا ہدف5,829ارب روپے متوقع ہے جس سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو1,684ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں18%زیادہ ہوں گے ۔
جبکہ صوبائی محصولات کے لیے405ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں28% زیادہ ہے ۔ بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ1,428ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ جنابِ اسپیکر! مجھے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں آج اس معزز ایوان کے سامنے آئندہ مالی سال کے لئے ایک تاریخ ساز ترقیاتی پروگرام کا اعلان کر رہا ہوں۔صوبہ پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب کے ریکارڈ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ترقیاتی بجٹ میںایک سال میں66%کا یہ غیر معمولی اضافہ بلاشبہ ہماری ترقیاتی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمار ا یہ ترقیاتی پروگرام صوبے کی ترقی، معیشت کے استحکام اور عوام کی خوشحالی کا ضامن ہوگا اور اس کے ثمرات پنجاب کے کونے کونے تک پہنچیں گے۔ جنابِ اسپیکر! آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں سوشل سیکٹر یعنی تعلیم اور صحت کے لیے205ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں110%زیادہ ہیں۔انفراسٹر کچر ڈویلپمنٹ کے لیے 145ارب40کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں87%زیادہ ہیں۔اسپیشل پروگرامزکے لیے 91ارب 41کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں92%زیادہ ہیں۔ترقیاتی بجٹ میں اکنامک گروتھ کے لیے پیداوری شعبوں جن میں صنعت ، زراعت، لائیوسٹاک،ٹوورازم،جنگلات وغیرہ شامل ہیں57ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں234%زیادہ ہیں۔
جناب سپیکر!بجٹ2021-22میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری ،معاشی شرح نمو یعنی economic growth،سماجی ترقی Social Development اور علاقائی مساواتzation regional equalit کے تناظر میں کی گئی ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے منشور کی بنیاد ہیں۔ترقیاتی پروگرام کے نمایاں منصوبہ جات میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام، یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام،سڑکوں کی بحالی،مدر اینڈ چاہلڈ ہیلتھ کیئر ہسپتال،سکولوں کی اپ گریڈیشن،معاشی ترقی کے خصوصی مراعات، ورک فورس کی تیاری ، اینوائرمنٹ اینڈ گرین پاکستان اور پبلک ہائوسنگ سکیم شامل ہے ہیں۔
جنابِ اسپیکر!جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ تحریک انصاف کے معاشی ترقی کے ماڈل میں سوشل سیکٹر میں بہتری اور پورے صوبے میں یکساں ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس لیے معاشی ترقی کے لیے پیداواری شعبوں میں حکومتی اقدامات سے کے ذکر سے پہلے میں ان دو ترجیحات پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔جناب سپیکر!کرونا کہ دوران جہاں محکمہ صحت پر بوجھ آیا وہاں ہمیں اس شعبہ کے مسائل اور درکار وسائل سے آگاہی کا بھی موقع ملا۔
جو تجربات ہمیں اس دوران ہوئے وہ ڈیٹا شاید کوئی فزیبلیٹی رپورٹ بھی فراہم نا کر پاتی۔ صحت ہر ایک کی ضرورت ہے پنجاب نے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ملکر ویکسینین سینٹر بنائے تو ان سے ہرطبقے نے استفادہ کیا وہ لوگ جو عام حالات میں سرکاری ہسپتالوں پر اعتبار نہیں کرتے وہ بھی ان سینٹرز سے استفادہ کر رہے ہیں جن کو دیکھ کر ویکسینیشن سے متعلق تعصبات رکھنے والا کم تعلیم یافتہ طبقہ بھی ترغیب ھاصل کر رہا ہے ۔اس دوران ہم نے یہ بھی دیکھا کہ صرف ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے سے صحت کے مسائل کم نہیں ہوں گے بلکہ علاج کی استطاعت بھی ضروری ہے ۔ان حقائق کی روشی میں حکومت پنجاب صوبے کی تاریخ کا سب سے پہلا میگا منصوبہ مکمل کرنے جس کا ڈی جی خان اور ساہیوال سے آغاز کیا جا چکا ہے ۔ منصوبہ کے تحت پنجاب کی 100فیصد آبادی یعنی 11کرو ڑ عوام کو سرکاری و غیرسرکاری ہسپتالوں سے علاج کے لیے80ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس مہیا کی جا رہی ہے جو ـ”صحت سب کے لیے ” ہمارے نعرے کی تعبیر بنے گی۔جناب سپیکر! میں نے اسے پنجا ب کی تاریخ کا سب سے پہلا میگا منصوبہ کہا کیونکہ یہ ماضی کے میگا منصوبوں کی طرح صرف اخراجات میں میگا نہیں بلکہ محاصلات (Out Puts)میں بھی میگا ہے۔انشااللہ آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہونے والے اس منصوبہ کے لیے رواں مالی سال میں60ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ صحت کے شعبہ میں دوسرا بڑا مسئلہ ہسپتالوں تک رسائی اورناکافی موجود سہولیات کے سبب دورانِ پیدائش ہونے والی اموات ہیں جن میں کمی کے لیے اس سال 5نئے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس کے لیے 12ارب روپے سے زائد کابجٹ مختص کیا گیا ہے۔
جناب سپیکر!تحریک انصاف پنجاب میں حکومت سے پہلے سال سے صحت کے بجٹ میں اضافہ کر رہی ہے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر صحت کا بجٹ369ارب روپے رکھا گیا ہے جورواں مالی سال سے30%زائد ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے96ارب روپے جبکہ ٖجاری اخراجات کے لیے 273ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔رواں مالی سال میں ائیر ایمبولیس کی فراہمی کے منصوبہ کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لیے۔
۔۔۔۔روپے کی Seed money رکھی گئی ہے۔ جنابِ اسپیکر!تعلیم کے شعبہ میں پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ سکولوں سے باہر بچوں کی سکولوں میں انرولمنٹ اور پسماندہ علاقوں میںپرائمری کی سطح سے اوپر تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم ہے جس کے لیے انصاف سکول پروگرام کے تحت پنجاب کے 22اضلاع کے577 پرائمری و ایلیمینٹری سطح کے سکولوں کو مڈل اور ہائی سکولوں کا درجہ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ والدین جو پرائمری سطح کے بعد سکولوں کی گھروں سے دوری کے سبب بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیتے ہیں کم ازکم میٹرک تک مفت تعلیم کو یقینی بنائیں ۔اس مقصد کے لیے تعلیم کے بجٹ میں6ارب 80کروڑ روپے مہیا کئے جا رہے ہیں جس سے کم از کم 40لاکھ طلباو طالبات استفادہ کریں گے ۔ ہائر ایجوکیشن کے شعبہ میں ہر ضلعے کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے پاکپتن،راجن پور،گوجرانوالہ،اٹک،حافظ آباد،ڈ ی جی خان، ننکانہ صاحب ، بھکر، لیہ، ملتان اور سیالکوٹ میں مجموعی طور پر 8یونیورسٹییوں کے قیام کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔سیالکوٹ میںآسڑیا کے تعاون سے عالمی معیار کی اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی 17ارب روپے کی مجموعی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے جو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے میدان میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی ۔نبی کریم ﷺ سے عقیدت و محبت کے اظہار میںرحمتہ للعالمینﷺ سکالر شپس کیلئے 83 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بلاک رکھا گیا ہے جو ضرورت مند طلبا و طالبات کے تعلیمی اخراجات میں مدد کرے گا۔
تعلیم کا مجموعی بجٹ442ارب روپے رکھا گیا ہے جو پچھلے سال سے13%زیادہ ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے54ارب 22کروڑ روپیجبکہ جاری اخراجات کے لیے388ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جناب سپیکر! پنجاب ایک مدت سے وسائل کی غیر متوازن تقسیم اوریک رخی ترقی کے پیدادہ کردہ مسائل سے نبرد آزماء ہے۔فرد واحد کے مسلط کردہ فیصلے انتظامی امور میں بدعنوانیوں کا سبب بن رہے تھے ۔نظر انداز کیے جانے والے اضلاع دارلخلافہ سے متعلق تعصبات کا شکار تھے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے جنوبی و وسطی پنجاب کے مابین واضح لکیر کھینچ دی تھی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کابینہ کے چھینے گئے اختیارات بحال کیے ۔ صوبے کے 11کروڑ وعوام سے متعلق ہر فیصلے میں عوامی نمائندوں کی تجاویزکا احترام کیا،بدعنوانیوں پر کنٹرول کے لیے حکومتی اراکین کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔دارلخلافہ پر عوام کااعتماد بحال ہوا اورپورے صوبے میں یکساں ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی کی قیادت ہے جس کی بدولت آج ہم جنوبی پنجاب کی عوام کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔ خطے کو نا صرف وسائل میں ان کا جائز حق دیا جا رہا ہے بلکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی نا انصافی کی حوصلہ شکنی لیے مختص کردہ بجٹ کی رنگ فینسنگ بھی کر دی گئی ہے ۔
انتظامی خرابیوں کی دوری کے لیے55 ایڈمنسٹریٹو اور11فنانشیل اختیارات کے ساتھ الگ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں آبادی کے تناسب سے32فیصد کوٹے کا تعین بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جناب سپیکر!آئندہ مالی سال میں جنوبی پنجاب کے لئے 189ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جنوبی پنجاب میں چولستانی علاقوں کی ترقی کے لیے تقریباََ 1 ارب روپے کے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔
جس کے تحت پینے کے پانی کے ذخائر اور چولستانی علاقہ تک رسائی کے لیے سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ مزید برآں چولستان اور بارانی علاقہ جات میں ٹڈ ی دل کے تدارک (Locust Control)کیلئے 15کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ Development Partnersکی معاونت سے جاری منصوبہ جات میں South Punjab Poverty Allevation Programme (SPPA) کے تحت 2ارب 34کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثہ جات کی منتقلی بشمول غریب خواتین کیلئے کم لاگت کے گھروں کی تعمیر، فنی مہارت اور بکریوں کی فراہمی جیسے منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔صوبہ پنجاب میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام(CDP) کے تحت منصوبوں کی تکمیل کیلئے15 ارب روپے کی رقوم مختص کی جا رہی ہیں۔ اِن منصوبوں سے نہ صرف ہیومین ڈویلپمنٹ کو تقویت ملے گی بلکہ انسانی سرمایہ میں بڑھوتری اورSDGs کے تحت عالمی اداروں سے کئے گئے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی ہو گا۔اس بار جنوبی پنجاب کے بجٹ کا صرف اعلان ہی نہیں میزان بھی الگ سے شائع کیا گیا ہے جو خطے کے لیے مختص کردہ فنڈزکے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنائے گا اور آئندہ آنے والے دنوں میں موجودہ حکومت کی جانب سے وسائل کی منصفانہ تقسیم کادستاویزی ثبوت ہو گا۔جناب سپیکر!سابق حکومت کے دس سالہ دور میں وسائل کی غیر متوازن تقسیم نے صرف جنوبی پنجاب کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ وسطی پنجاب کے بیشتر اضلاع بھی ترقی سے محروم رہے میونسپل، سیوریج اور ایسی ہی بنیادی سہولیات کا فقدان چھوٹے شہروں کی پسماندگی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔ آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 295ارب روپے کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام اگلے دو سال میں بلا تخصیص پنجاب کے 36اضلاع میں ضرورت کے مطابق خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گا۔منصوبے کے تحت پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت ، فراہمیِ و نکاسیِ آب، بنیادی تعلیم و صحت سے متعلقہ ترقیاتی کام کیے جائیں گے جس سے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 99ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جنابِ اسپیکر!اگلے مالی سال کے بجٹ میں لاہور کی مرکزی اور تجارتی اہمیت کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کے لئے28.3ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔
جس کے تحت شہر میں انفرا سٹرکچر کے میگا پروجیکٹس لگائیں جائیں گے۔ لاہور میں اس وقت زیر تعمیر جاری اہم منصوبوں میں شاہ کام چوک ، گلاب دیوی ہسپتال انڈرپاس اور شیراں والاگیٹ اوورہیڈ شامل ہیں۔ لاہور شہر میں پانی کی شدید قلت کو مدنظر رکھتے ہوئےSurface Water Treatment Plant لگایا جا رہا ہے جس کے لیے آئندہ مالی سال میں ایک ارب 50کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔
لاہور شہر میں آخری بڑا جنرل ہسپتال 1984میں تعمیر ہو۔ ہماری حکومت اس سال ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید ترین ہسپتا ل کی تعمیر کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ جنابِ اسپیکر! ہم لاہور کو عالمی سطح کا جدید ترین شہر بنانے کاعزم رکھتے ہیں۔ لاہور کے مستقبل کی ضروریات کے مد نظر رکھتے ہوئے راوی اربن پروجیکٹ اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ جیسے فقیدالمثال منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جن کی بدولت یہ تاریخی شہر آنے والے وقتوں میں اس خطے کا ترقی یافتہ ترین شہر بن جائے گا۔یہ منصوبے نا صرف لاہور بلکہ پنجا ب میں ترقی اور خوشحالی کے سنہر ی دور کا سنگِ میل ہوں گے۔ایک اندازے کے مطابق صرف سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام سے6ہزار ارب معاشی سرگرمیاں اور ایک لاکھ سے زائد روزگارکے مواقع دستیاب ہوں گے۔ جناب سپیکر! پاکستان کے گروتھ ریٹ میں حالیہ اضافہ جہاں موجودہ حکومت کی مالی پالیسیوں کی کامیابی کی دلیل ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب مستقبل میں بھی اسی حکمتِ عملی پر آگے بڑھنے کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے اس سلسلے کو جاری رکھا جا سکے اس مقصد کے لیے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی مہیا کیا جا رہا ہے۔
کاروباری طبقے کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میںمعاشی ترقی کے لیے10ارب روپے کا خصوصی پیکج اسی سلسلے کی کڑی ہے۔جناب سپیکر! پنجاب حکومت 10ارب روپے کے اس خصوصی پیکج کے ساتھ رواں مالی سال میں کاروبار کی بحالی اور ترقی کے لیے فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس مقصد کے لیے آئندہ بجٹ میں 51ارب روپے کا جامع پیکج مختص کیا گیا ہے جس کے تحت ) بورڈ آف ریوینو کی جانب سے ٹیکسوں کی مد میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح کو1% پر برقرار رکھا جائے گا۔40 ارب روپے کی اس رعایت کا مقصد کنسٹرکشن کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گا۔ (ب)رواں مالی سال میں جن 25 سے زائد سروسز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح کو16% سے 5%کیا گیا تھا اُن کو آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رکھا جائے گا۔اِن سروسسز میں چھوٹے ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز، شادی ہال، لانز، پنڈال اور شامیانہ سروسز و کیڑرز، آئی ٹی سروسز، ٹور آپریڑرز، جمز، پراپرٹی ڈیلرز، رینٹ اے کار سروس، کیبل ٹی وی آپریڑز، Treatment of Textile and Leather، زرعی اجناس سے متعلقہ کمیشن ایجنٹس، Auditing, Accounting & Tax Consultancy Services، فوٹو گرافی اور پارکنگ سروسزوغیرہ شامل ہیں۔ (ج)اسی طرح آئندہ مالی سال میں دس مزید سروسز پر سیلز ٹیکس کو16%سے کم کرکے 5%کرنے کی تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں۔ان نئی سروسسز میں بیوٹی پارلرز، فیشن ڈیزائنزز، ہوم شیفس ، آرکیٹیکٹ، لانڈریز اور ڈرائی کلینرز، سپلا ئی آف مشینری، وئیر ہاوس، ڈریس ڈیزائنرز اور رینٹل بلڈوزر وغیرہ شامل ہیں۔ (د) کال سینٹرز پر ٹیکس کی شرح کو ساڑھے 19%سے کم کر کے 16%کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ رواں مالی سال میں ریسٹورانٹس کے لئے کیش ادائیگی پر ٹیکس کی شرح 16% جبکہ بذریعہ کریڈ ٹ یا ڈیبٹ کارڈ ادائیگی پر5% کیا گیا تھا۔اس سے نہ صرف معیشت کوڈاکیومینٹیشن میں مدد ملی بلکہ عوام میں اس اقدام کو بہت سراہا گیا۔ اگلے مالی سال کے لئے موبائل والٹ اور QRکوڈ کے ذریعے ادائیگی پر بھی ٹیکس کی شرح5% کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے تحت رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی پراپرٹی ٹیکس دو اقساط میں ادا کیا جاسکے گا۔ پراپرٹی ٹیکس اور موٹر وہیکل ٹیکس پر نافذ شدہ سر چارج پینلٹی کوآئندہ مالی سال کی صرف آخری دو سہ ماہیوں تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے لیے برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی خریدو فروخت پر حوصلہ افزائی کے لیےElectric Vehicles کی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن فیس کی مد میں 50%اور 75% تک چھوٹ دی جائے گی۔ جناب سپیکر!معاشی ترقی میں صنعت و تجارت کی اہمیت کے پیش نظر 28سو ایکڑ پر محیط علامہ اقبال اِنڈسٹریل سٹی فیصل آباد،بہاولپوراور سیالکوٹ میں اِنڈسٹریل اسٹیٹ اور قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ جیسے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔
فیصل آباد اور لاہورکی انڈسٹریل اسٹیٹس میں ترقیاتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے۔ ایسے مقاصد کے حصول کے لئے3ارب 50کروڑروپے کے فنڈزمہیاکئے جا رہے ہیں تاکہ معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے ۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے تعاون سے 50کروڑ روپے کی لاگت سے Sialkot Tannery Zone کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کے لئے آئندہ مالی سال میں 35کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔10 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے پنجاب روزگار پروگرام کے تحت آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔ جنابِ اسپیکر! مہنگائی اس وقت نہایت اہم مسئلہ ہے۔ ہم اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں سہولت بازاروں کا قیام حکومتِ پنجاب کی ایک خصوصی کاوش ہے۔ اِ س وقت پنجاب کے مختلف اضلاع میں 362سہولت بازار کام کر رہے ہیں جو کہ عوام ا لناس کو معیاری اور سستی اشیاء ضروریہ ایک ہی چھت تلے فراہم کررہے ہیں۔مزید یہ کہ ہم ان بازاروں کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے ماڈل بازار اتھارٹی کا قیام عمل میں لا رہے ہیں جس کے تحت پنجاب کے تما م بڑے شہروں میں ماڈل بازار تعمیر کئے جائیں گے جس کے لئے اگلے سال میں ایک ارب 50کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ جناب سپیکر! اس وقت پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہمارے نو جوان ہیں جو ملک کی کل آبادی کا 65 فیصد ہیں موجودہ حکومت اس اثاثے کی اہمیت اور صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہے ۔نوجوانوں کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے آئندہ مالی سال میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے "Improving work force Readiness in Punjab”کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے ۔ جس کے تحت 40ہزار طلبہ کی فنی تربیت کی جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک 100ملین ڈالر اور پنجاب حکومت 10ملین ڈالر خرچ کرے گی ۔ اس کے علاوہ ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کی تربیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
جنابِ سپیکر !معاشی ترقی میں مواصلات کے جدید نظام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اسی لئے حکومت پنجاب جدید اور معیاری road network کی تعمیر کو اہمیت دے رہی ہے ۔ ہم آئندہ مالی سال سے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کا ایک جامع منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے طول و عرض میں 380 ارب روپے مالیت کی 1769 ترقیاتی سکیمیں شروع کی جائیں گی جن کے تحت13ہزار کلو میٹر لمبائی کی سڑکوں کی تعمیرو مرمت اور توسیع مکمل کی جائے گی۔اس مقصد کے لئے 58ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ یہاں بتانا انتہائی اہم ہے کہ ہماری مسلسل کوششوں سے وفاقی حکومت صوبے میں جدید شاہراہوں کی تعمیرو توسیع کے ایک وسیع پروگرام کے لئے مالی وسائل مہیا کر نے پر آمادہ ہو گئی ہے۔اس پروگرام کے تحت صوبے میں 73ارب کی مالیت سے 776 کلو میٹر لمبی 13اہم شاہراہوں کی تعمیرو توسیع کا کام شروع کیا جا رہا ہے ۔
جس کے لئے آئندہ مالی سال میں 39ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ8ارب روپے کی مالیت سے CM Road Rehablitation Programme کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے تحت صوبے کی خستہ حال سڑکوں کی تعمیرو بحالی کے کام مکمل کئے جائیں گے۔مجموعی طور پر آئندہ سال صوبے میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور بحالی کے منصوبوں پر 105ارب روپے کی ریکارڈ رقم خرچ کی جائے گی۔
جنابِ اسپیکر!اپنا گھر ہر خاندان کا خواب ہو تا ہے موجودہ دور میں کم آمدن والے گھرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ گھرکا حصول ہے جس کے لیے وہ ساری زندگی محنت کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت پہلے دن سے کم وسیلہ خاندانوں کے اس مسئلہ کے حل کے لیے کوشاں ہے ۔آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں Peri Urban Housing Scheme متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت اوسطـاًایک گھر 14لاکھ روپے کی قیمت پر میسر ہوگا ۔اِس منصوبے کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 3ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اِسی طرح نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت ہم HUD&PHE کے محکمے کو ایک ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے پرائیویٹ ڈویلپرز کے تعاون سے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت لوگوں کیلئے گھروں کی تعمیرممکن ہو سکے گی۔نیا پاکستان اسکیم کے تحت 35,000 اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے ۔
اس کے علاوہ پنجاب کے شہروں میں جدید انفراسڑکچر اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے 22 ارب 44 کروڑ روپے کے فنڈز دئیے جا رہے ہیں۔ جنابِ اسپیکر! پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہماری حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سنگین مسئلے کے مستقل حل کے لئے بھی کوشاں ہے ۔ہماری حکومت ورلڈ بینک کی معاونت سے86ارب روپے کی لاگت سے 16پسماندہ ترین تحصیلوں میں ایک جامع منصوبے کا آغاز کر رہی ہے جس کے تحت 100% دیہی آبادی کو پینے کے صاف پانی،Solid Waste Management اور نکاسی آب کی سہولیات فراہم کی جائیں گیں۔ آئندہ مالی سال میں اِس پروگرام کیلئے 4ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے Plant Waste Water Treatment کی تنصیب کا ایک مربوط پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت 5 بڑے شہر جس میں لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں ، یہ Plants لگائے جائیں گے۔اِس مقصد کے لئے بجٹ 2021-22ء میں 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ معزز ایوان آگا ہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامع حکمتِ عملی کے تحت پنجاب آبِ پاک اتھارٹی تشکیل دی ہے جو دیہی اور دور دراز علاقوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ مزید برآں ہم پانچ سالہ WASA Transformation Plan بھی متعارف کروا رہے ہیں جس کے تحت بڑے شہروں کی پانی کی ضروریات پورا کرنے کیلئےWASA لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان جامع بزنس پلان تشکیل دیں گے تا کہ یہ ادارے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
جنابِ اسپیکر! ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب کی معاشی ترقی کا انحصار زراعت کے شعبے پر ہے ۔ اسی لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اِسی حقیقت کے پیشِ نظر اگلے مالی سال میں محکمہ زراعت کے ترقیاتی بجٹ کو306% کے تاریخی اضافے کے ساتھ7ارب 75کروڑروپے سے بڑھا کر31ارب50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ آئندہ بجٹ میں Agriculture Transformation Programme کے تحت زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پنجاب حکومت وفاقی حکومت کے وژن سے ہم آہنگ کئی انقلابی اصلاحات متعارف کروانے جا رہی ہے ۔یہ پروگرام دورِ حاضر کے جدید تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نا صرف زرعی پیداوار میں اضافے کا موجب ہوگا بلکہ کسان کا معیارِ زندگی میں بہتر ی کا بھی امین ہو گا۔ علاوہ ازیں اس پروگرام کے تحت کسان کارڈ کا اجرا، فارم میکانائزیشن (Farm Mechanisation )میں جدت کا فروغ، آب پاشی میں پانی کا کفایت شعارانہ استعمال، کسان تک قرضوں کی آسان فراہمی اور Agricultural Research and Extension اداروں میں اصلاحات وغیرہ شامل ہیں۔
دو سال پر محیط اِس اہم منصوبے کے لئے7ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ اسی طرح نیشنل پروگرام برائے Improvement of Water Courses کے لیے5ارب روپے رکھے گئے ہیں۔جنابِ اسپیکر!کسان کی خوشحالی اور اُس کی فصل کی پیداوار پر اُٹھنے والے اخراجات میں کمی لانے کی خاطر کھاد، بیج اور زرعی ادویات وغیرہ کی خریداری ، فصل بیمہ (Crop Insurance)، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی پر سبسڈی کو 5 ارب 82 کروڑ روپے سے بڑھا کر 7 ارب6 کروڑ روپے کیا جا رہا ہے ۔وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کی طرف سے فراہم کردہ کسان دوست زرعی پیکج کے ہی ثمرات ہیں کہ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار میں اپنے اہداف سے کہیں زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنابِ اسپیکر! لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے مجموعی طور پر5 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ جس میں جاری منصوبہ جات کیلئے 1 ارب 58 کروڑ کی رقم اور نئے منصوبوں کیلئے3 ارب42 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔وزیراعظم پاکستان کے زرعی خوشحالی منصوبہ کے تحت حکومت پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر میں گھریلو مرغ بانی کے فروغ کیلئے اس سال 11 کروڑ کی رقم رکھنے کی تجویز ہے۔ جانوروں کی صحت کے حوالے سے ڈویژن کی سطح پر ویٹرنری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کیلئے10کروڑ سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جانوروں کی نشوونما کے حوالے سے کسانوں کیلئے 50 فیصد سبسڈی پر Silage مشین کی فراہمی کا منصوبہ بھی لایا جا رہا ہے جس کے لئے 32 کروڑ سے زائد رقم رکھنے کی تجویز ہے۔
جنابِ سپیکر! شجر کاری کو فروغ دیئے بغیر بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں پر قابو پانا ممکن نہیں۔ چنانچہ حکومت پنجاب نے اس شعبے کے لئے مجموعی طور پر 4ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز کی ہے۔ جس کے تحت صوبہ بھر میں شجر کاری کے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے ten billion tsunami program کے لئے 2 ارب 56کروڑ سے زائد رقم رکھنے کی تجویز ہے۔جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 1ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔وزیراعظم کے وژن کے مطابق ہیڈبلوکی پر Wildlife Reserve، نمل لیک کی آرائش اور چیچہ وطنی کی جنگلی حیات کا فارم بنانے کا منصوبہ بھی ہماری آئندہ مالی سال کی ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل ہے۔محکمہ ماہی پروری کیلئے تقریباً 1 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جنابِ سپیکر!شروع دن سے ہی سماجی تحفظ کا شعبہ ہمارے اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔اس ضمن میںپنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے لیے4 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس سے4 لاکھ 60 ہزار افراد مستفید ہونگے۔ اس پروگرام میں بزرگوں کے لیے باہمت بزرگ پروگرام، فنکاروں کے لیے صلۂ فن،خواجہ سرائوںTransgenders) کے لیے مساوات پروگرام، تیزاب گردی سے متاثرہ خواتین کے لیے نئی زندگی پروگرام، بیوائوں اور یتیموں کے لیے سرپرست پروگرام جبکہ سویلین شہداء کے لیے خراج الشہداء پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔شہدا کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے اور اُن کے پسماندگان کی مالی معاونت کیلئے ہم نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 183%اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے14 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقوم مہیا کی جائیں گی۔ اگلے سال وفاقی حکومت کے تعاون سے پنجاب احساس پروگرام کیلئے ا 12 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جس سے مزید 7 لاکھ افراد مستفید ہونگے۔
پنجاب ہیومین کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (Punjab Human Capital Investment Project)کے تحت لوگوں کو خطِ غربت کی لکیر سے نکالنے کیلئے 5 ارب 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے وزیرِ اعظم پاکستان کے وژن کے مطابق Stunted growthکے خاتمے اور زچہ وبچہ کی صحت و غذائی ضروریات کی فراہمی کے لئے معیاری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ جنابِ اسپیکر! ہماری حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی معاشرے کے کمزور ترین طبقات کی بہبود کیلئے پناہ گاہوں اور مسافر خانوں کے قیام کے اقدامات شروع کر دیے تھے۔اِن اقدامات کی ملک گیر پذیرائی کی بدولت ہم نے فیصلہ کیا کہ کمزور لوگوں کی کفالت کے اِن اداروں کو صوبے کے طول و عرض میں قائم کیا جائے ۔ اس مقصد کیلئے پنجاب پناہ گاہ اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک مستقل اور عارضی پناہ گاہوں کی تعداد94 ہے جو معاشرے کے کمزور ترین افراد کے سماجی تحفظ کو حکومتی اور نجی شراکت داری سے معیاری اور باعزت خدمات مہیا کر رہی ہیں۔مالی سال 2021-22 میں جھنگ ، ملتان اور ساہیوال میں پناگاہوں کی تعمیر ، نشے کے عادی افراد کی بحالی کیلئے فیصل آباد میں علاج اور بحالی سنٹر کا قیام اور ملتان میں بحالی سنٹر کی تجدیدہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی خان میںمعذور افراد کیلئے نشیمن گھر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اٹک میں بچوں کیلئے ماڈل چلڈرن ہوم کا قیام بھی کیا جا رہاہے۔جنابِ سپیکر! ہماری حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک مربوط پالیسی وضع کر رکھی ہے جس کے تحت پنجاب میں پہلے سے موجود سیاحتی مقامات میں اصلاحات کے کئی اقدامات کیے ہیں ۔اِس شعبے کی اہمیت کو جانتے ہوئے ہماری حکومت نے مختلف شعبوں میں شامل شدہ شعبہ سیاحت کو الگ کر کے محکمہ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے نام سے ایک الگ محکمے کی حیثیت دی ہے۔ آئندہ مالی سال میں ہمارا عزم ہے کہ لوگوں کو سیاحت کے بہترین مواقع مہیا کرنے کے لئے حکومت پنجاب نئے سیاحتی مقامات کی تعمیر کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ موجودہ مقامات پر تمام تر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔
حکومت پنجاب نے خصوصی طور پر Religious Tourism کے فروغ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس ضمن میں 2 ارب سے زائدکی رقوم مختص کی جا رہی ہے۔ReligiousTourism) مذہبی سیاحت کیلئے Improvement / Renovation of Religious Places of Minorities to Promote Tourism Programme کے تحت فیز ون میں 9کروڑ 28لاکھ کی لا گت سے سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل لارنس روڈ، کیتھیڈرل چرچ مال روڈ اورکر شنا مندر صادق آباد ضلع رحیم یا رخان کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا گیا۔اسی طرح نئے سال میں اس پروگرام کے فیز ٹو کیلئے50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت عوامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد جگہ کا تعین کیا جائے گاتا کہ مذہبی سیاحت میں مزید اضافہ کیا جائے۔ مالی سال 2021-22کے ترقیاتی پروگرام میں محکمہ سیاحت پنجاب کے لئے ایک ارب25کروڑ روپے کا بجٹ تجویزکیا گیا ہے۔ محکمہ سیاحت پنجاب نے مالی سال 2021-22کیلئے 20 نئے منصوبہ جات تجویز کئے ہیں جن کے تحت صوبہ بھر میںجو سیاحتی سہولیات میں مہیا کی جائیں گی اُن میں قابل ذکر تونسہ بیراج تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ میں ٹورازم کلچرل پارک ، سول ویلی ضلع خوشاب میں ایڈونچر پارک ، جوہر ٹائون ضلع لاہور میں ٹی ڈی سی پی انسٹیٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ ، ہرن مینار ضلع شیخوپورہ میں ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر کا قیام شامل ہیں۔جنابِ اسپیکر! امن و عامہ کا قیام معاشرے کی ترقی کے لئے ازحد ضروری ہے۔پولیس کے نظام میں بہتری اور اس کی استعداد کار میں اضافہ حکومت پنجاب کی ایک اہم ترجیح ہے۔آئیندہ مالی سال کے بجٹ میں Law & Order کو برقرار رکھنے کیلئے 8 ارب روپے کا خصوصی بلاک رکھا جا رہا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں خود کار فنگر پرنٹس شناخت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا جس کے لئے2 کروڑ 70لاکھ روپے کا بجٹ مہیا کیا جارہا ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے اور اِس مسئلے کے خلاف اپنی اِستعداد بڑھانے کیلئےCTD Lahore میں انفراسٹرکچر کو بہتربنانے پر توجہ دی جائے گی۔ علاوہ ازیں جیل خانہ جات میں مامور عملی کی بہتر پیشہ ورانہ تربیت کیلئے پریزن سٹاف ٹریننگ کالج ساہیوال کیلئے 11 کروڑ روپے مخصوص کیے جانے کی تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ محکمہ پولیس کی استعداد میں اضافے کیلئے 565 نئی تعیناتیاں رواں مالی سال میں کی گئیں جن کے لئے 22 کروڑ 20 لاکھ روپے کا بجٹ آئندہ مالی سال میں بھی مختص کیا جارہا ہے۔
جناب ِ سپیکر! مساجد ،مزارات اور وقف پراپرٹی کے تحفظ کیلئے محکمہ اوقاف کیے لئے اس سال70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس میں بی بی پاک دامن مزار کی تکمیل بھی شامل ہے۔ حکومت پنجاب محکمہ اوقاف کے توسط سے 15نئی لائبریریاں15اہم مزارات کے ساتھ قائم کر رہی ہے۔اور لائبریری سکیم ہر مزار تک پھیلائی جائے گی۔اس کے علاوہ مساجد اور مزارات کی توسیع اور تزئین کیلئے 1ارب 26 کروڑ روپے مختص کئے جارہے ہیں۔جنابِ اسپیکر! ہمارے ملک کی ترقی میں اقلیتی آبادی کا کردار تسلیم شدہ ہے۔ حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال میں محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے ترقیاتی بجٹ میں 400%اضافہ کرکے 2ارب50کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ اقلیتی آبادی والے علاقوں کیلئے خاص طور پر Development of Model Locality Phase کے نام سے سکیم شامل کی گئی ہے جس کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جنابِ اسپیکر! ہمیں سرکاری ملازمین کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے ۔رواں مالی سال میں کرونا کے سبب معیشت کی غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں کوئی اضافہ ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی ہو رہی ہے کہ اب چونکہ معاشی حالت میںواضح بہتری نظر آنا شروع ہوگئی ہے لہذا ہماری حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا جائے گا ۔تاہم گریڈ 1 سے گریڈ19 کے وہ 7لاکھ 21 ہزارسے زائد سرکاری ملازمین جنہیں پہلے کسی قسم کا کوئی اضافی الائونس پیکج نہیں دیا گیا ان کی تنخواہوں میں Special Allowanceکی مد میں مزید 25% کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔اِسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10%اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ میں اس معزز ایوان کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ حکومت پنشن کے نظام میں اصلاحات اور بنیادی تبدیلیاں متعارف کروانے کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے جس سے آئندہ آنے والوں برسوں میں حکومت کے پنشن کی مد میں ہونے والے اخراجات میں قابل ذکر کمی واقع ہو گی۔
جناب سپیکر! ملک کا دیہاڑی دار طبقہ ہمیشہ سے ہمارے دل کے سب سے زیادہ قریب رہا ہے اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ہم انھیں نظر انداز کریں ۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہمارے مزدور بھائیوں کی کم سے کم اجرت 17,500ماہانہ سے بڑھا کر 20,000 ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ہُنر مند اونیم ہُنرمند افراد کی اجرتوں میں 14.28% اضافہ تجویز کیا جا رہا ہے۔
جو اُن کے روز مرہ معاملات میں کسی حد تک آسانی پیدا کرے گی۔ جنابِ اسپیکر! اپنی تقریر کے اختتام پر میں ان تمام سرکاری و غیرسرکاری اداروں، ہسپتال کے اہلکاروں تجارتی مراکز اور صنعتوں میں فرائض سرانجام دینے والوں اور سب سے بڑھ کے صوبے کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے کوویڈ کے دوران حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے معیشت کے پہیہ کو رواں دواں رکھا اور ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم معاشرے کے کمزور طبقہ کی داد رسی کر سکیں ۔اس کے ساتھ ساتھ میں آپ سب معزز اراکین خصوصاً حزب اختلاف سے درخواست کرتا ہوںمعاشی ترقی کے جو ثمرات حاصل ہونا شروع ہوئے ہیں اُن کو قومی جذبہ اتحاد و یک جہتی کے ساتھ موثر طور پر اپنے صوبے کے عوام تک منتقل کرنے میں ہمارا ساتھ دیںاورہر قسم کے ذاتی تعصبات سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دیں۔اس کے ساتھ ہم کشمیر اور فلسطین میں مشکل حالات سے دوچار مسلمان بھائیوں کے لئے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی نصرت فرمائے۔میں آخر میں محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی بورڈ کے افسران و عملہ اور اپنی معاشی ٹیم میں شامل دیگر تمام دوستوں کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات محنت کر کے اِس مائل بہ ترقی بجٹ (Pro Development Budget) کی تیاری کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں