امتحانی ہال میں پرچہ دینے والی طالبہ کا بچہ گود میں اٹھا کر پہرادینے والے ٹیچر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

کابل(نیوز ڈیسک ) امتحانی ہال میں طالبہ کا بچہ گود میں اٹھا کر پہرا دینے والے ٹیچر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق کسی بھی معاشرے میں استاد کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں استاد کوروحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔مہذب معاشروں میں اساتذہ کی بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے۔ انسان زندگی میں چاہے جتنی کامیابی حاصل کر لے ا س میں سب سے زیادہ کریڈٹ ان کے اساتذہ کا ہوتا ہے اور خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنے اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔تاہم ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے اساتذہ بھی ہوتے ہیں جو اپنی چھوٹی سی خوب یا کام کی وجہ سے

دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کر دیتے ہیں۔اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک ٹیچر کو امتحانی ہال میں پرچہ دینے والے طالب علموں پر پہرا دینے کے ساتھ ساتھ ایک طالبہ کے بچے کو بھی گود میں اٹھائے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ تصویر سوشل میڈیا پر آتے ساتھ وائرل ہو گئی جس کے بعد نا صرف ٹیچر کے اس اقدام کو سراہا گیا بلکہ اس طالبہ کی بھی تعریف کی گئی جو اتنے چھوٹے بچے کو پالنے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر رہی ہے۔سینئر صحافی سلیم صافی کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس تصویر میں نظر آنے والا پروفیسر محمود مرہون ہی افغانستان کا اصل لیڈر اور ہیرو ہے۔جنہوں نے کابل یونیورسٹی کے پشتو ڈیپارٹمنٹ کے امتحان حال میں ایک خاتون کے بچے کو اس لئے سنبھالا ہوا ہے تاکہ ان کی ماں سکون سے پرچہ حل کرسکے۔انہوں نے استاد کو شاباش بھی دی۔خیال رہے اس سے قبل نوابشاہ کے اسکول میں استاد کی ریٹائرمنٹ کے بعد طلباء کا ایسی جذباتی ردِ عمل دیکھنے میں آیا تھا کہ جس نے سب کو حیران کر دیا ۔گورنمنٹ پرائمری اسکول نیا مدرسہ میں گذشتہ 12 سال سے بچوں کوزیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے استاد رضا محمد شیخ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر اسکول سے رخصت ہو گئے۔ اس موقع پر طالب علموں سے اپنے شفیق اور مہربان استاد سے محبت اور جدائی کے مناظر دیدنی تھی۔معصوم طلباء پھولوں کے ہار پہناتے ہوئے استاد کے جدا ہونے کا غم چھپا نہیں پا ئے اور وہ بھی آبدیدہ ہو گئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.