سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازوں پر عائد پابندی اٹھانے کی تیاریاں ،حکام نے عندیہ دیدیا

ریاض(نیوز ڈیسک ) پاکستان میں اس وقت ہزاروں سعودی ویزہ ہولڈرز بڑی بے چینی سے اس انتظار میں ہیں کہ کب بین الاقوامی پرواز پر پابندی ہٹے اور وہ واپس سعودی عرب اپنی ملازمتوں پر پہنچ سکیں۔ ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے کوئی گرین سگنل نہیں دیا گیا۔تاہم سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی کا اس حوالے سے ایک اہم بیان آیا ہے۔ڈاکٹر العبد العالی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازوں پر عائد پابندی اُٹھانے کے لیے سوچ بچار شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر العالی سے سوال کیا گیا کہ بین الاقوامی پروازوں پر عائد پابندیاں کب ختم ہونے جا رہی ہیں۔

جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین اور اعلیٰ حکام فلائٹ آپریشنز سے پابندی اُٹھانے کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا، یہ بہت جلدی بھی ہو سکتا ہے اور کچھ دیر بھی لگ سکتی ہے ۔ تاہم مناسب وقت پریہ پابندیاں اُٹھائی جا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ چند روزپہلے یہ خبریں سامنے آئی تھی کہ سعودی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، مگر اس کے لیے لوگوں کو اکتوبر کے مہینے کا انتظار کرنا ہو گا۔اس خبر پر تارکین کی بڑی گنتی نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ بالآخر سعودی حکومت نے واپسی کی فلائٹس کی تاریخوں کا اعلان تو کیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر سعودی ایوی ایشن کی وضاحت سامنے آئی ہے۔ ایوی ایشن کے مطابق فی الحال سعودی حکومت نے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔ جیسے ہی ہی حکام کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کے احکامات جاری ہوں گے مطلع کر دیا جائے گا۔لوگ من گھڑت خبروں پر یقین نہ کریں۔ اکتوبر میں فلائٹ آپریشنز کے حوالے سے میڈیا سے کوئی خبر شیئر نہیں کی گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.