اردو سے ناآشنائی کے باعث نئی نسل اور والدین کے مابین ابلاغی خلا بڑھ رہا ہے، شاہد خان

اسلام آباد (عاطف عباس) امریکا پاکستان اسٹیڈیز سنٹر(آپس) کے چئیرمین شاہد خان نے کہا ہے کہ زبان کسی بھی ثقافت کی ترجمان ہوتی ہے نئی نسل کو اپنی ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے والدین اردو زبان کے استعمال کو یقینی بنائیں انہوں نے گزشتہ روز پاکستانی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عشرے سے امریکا میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور نوجوان نسل کو پاکستانی ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے کوشاں ہیں کلچرل تصادم سے بچاو کا ایک اہم ذریعہ کلچرل ہم آہنگی اور کلچرل ڈائیلاگ ہی ہے انہوں نے بتایا اس ضمن میں نیویارک یونیورسٹی اور امریکی حکومت

ان سے بھرپور تعاون کرتی ہے جس کے وہ بےحدمشکور ہیں ان کا کہنا تھا کہ اردو سے نا آشنائی کے باعث نئی نسل اور والدین کے مابین کمیونیکشن گیپ (ابلاغی خلا) روز بروز بڑھ رہا ہے اکثر والدین انگریزی سے ناآشنا جبکہ بچے اردو سے نابلد ہیں ایسے میں نوجوان نسل اپنی تہذیب و تمدن سے جدا ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نیویارک میں بیس سے پچیس ہزار پاکستانی موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ماضی میں کسی بھی پاکستانی کلچرل اتاشی نے اس جانب توجہ نہیں دی اور نہ ہی کسی کلچرل ایونٹ کے انعقاد کی ضرورت محسوس کی ہے۔ امریکا پاکستان اردو اسٹڈیز سنٹر نیویارک یونیورسٹی کے تعاون سے اردو کورسز اور کلاسز کا انعقاد کرتا رہتا ہے تاکہ طلبا اپنی زبان و آہنگ سے روشناس ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری اردو کلاسز کی خاص بات یہ بھی ہے کہ کئی امریکی بھی اردو سیکھنے کے لیے کورسز میں حصہ لیتے ہیں اور اس طرح ایکدوسرے کے کلچر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے انہوں نے بتایا کہ تقریبادس سالوں سے پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں اور اس مقصد کے لیے سٹیزن شپ کا دیباچہ بھی اردو میں ٹرانسلیٹ کرایا ہے تاکہ پاکستانیوں کو تیاری میں مدد مل سکے اور ان پر تمام کانسپیٹ واضح اور سٹیزن شپ کے حصول میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں