خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی کے بعد فردوس عاشق اعوان کا عہدہ خطرے میں پڑ گیا

لاہور (نیوز ڈیسک)فردوس عاشق اعوان کا عہدہ خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی کے بعد خطرے میں پڑ گیا۔ فردوس عاشق کو عہدے سے فوری ہٹانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی پر عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے۔فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ ایوان فردوس عاشق عوان

کی جانب سے خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی تذلیل کی شدید مذمت کرتا ہے۔فردوس عاشق اعوان کا خاتون افسر کے ساتھ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔فردوس عاشق کے اس رویے کی وجہ سے بیورو کریسی میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلی پنجاب فردوس عاشق کو فوری عہدے سے ہٹا ئیں، فردوس عاشق خاتون افسر سے معافی مانگیں۔خیال رہے کہ ہ گذشتہ روز کورونا ایس او پیز کی مبینہ خلاف ورزی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ‏برہم ہو گئیں اور سیالکوٹ میں رمضان بازار کے ناقص انتظامات پر اسسٹنٹ کمشنر کو ڈانٹ پلا دی تھی ، فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں بازار کا دورہ کیا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ بھی لیا ، اس دوران انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کو بازار میں بد انتظامی پر ڈانٹتے ہوئے کہا کہ افسر شاہی کی کارستانیاں حکومت بھگت رہی ہے، آپ اے سی ہیں تو عوام کا سامنا کریں چھپ کیوں رہی ہیں؟ انہوں نے سب کے سامنے خاتون افسر کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تنخواہ لیتی ہیں تو فرض بھی ادا کیجئیے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب سے بُرا انتظامی بدحالی کا شکار سیالکوٹ کا رمضان بازار ہے جو اس بات کی عکاس ہے کہ انتظامیہ کو عوام کی فکر نہیں ، بازار کی ناقص کارکردگی سے متعلق چیف منسٹر کو اپڈیٹ دوں گی ، اسسٹنٹ کمشنر معاون خصوصی کے رویے سے نالاں ہو کررمضان بازار سے واپس چلی گئی تھیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button