شیریں مزاری کی بیٹی نے اپنی ہی والدہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)یورپی پارلیمنٹ میں توہین رسالت ﷺ قانون کی آڑ میں پاکستان مخالف قرارداد منظور ہونے پر وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے اپنی ہی والدہ کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ایمان مزاری نے کہا کہ ہمارے ملک کی وزارت انسانی وسائل نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یورپی پارلیمنٹ کا یہ قرارداد منظور کروانا بالکل جائز ہے کیونکہ ہمارے ملک کی وزارت برائے انسانی وسائل (ایچ آر) نے آزادی اظہاررائے اور میڈیا کے خلاف سخت کارروائیوں پر بھی

کوئی کارروائی نہیں کی اس لیے جی ایس پی پلس درجہ بندی کے لیے پاکستان کی حیثیت کا ازسرنو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔یہاں توہین مذہب کے قانون کو خواتین اور اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کا سہارا لے کر لوگوں کو لاپتہ کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ایمان مزاری نے پاکستان کی وزارت برائے انسانی وسائل (ایچ آر) پر تنقید تو کی لیکن شاید وہ یہ بھول گئیں کہ یہ وزارت خود اُن کی اپنی والدہ کے پاس ہی ہے۔ ٹویٹر پر پیغام جاری کرنے کے بعد صارفین نے ایمان مزاری کو یاد دلایا کہ آپ کی اپنی والدہ ہی وفاقی وزیر ہیں، اگر آپ اپنی والدہ کی وزارت سے اس قدر نالاں ہیں تو کیا آپ کی والدہ اخلاقی طور پر اپنی وزارت سے مستعفی ہو جائیں گی ؟ خیال رہے کہ حکومتی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری اس سے قبل بھی کئی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف اور ملکی نظام کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں ۔اکثر اوقات تو ایمان مزاری پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف کے برعکس اور دیگر جماعتوں کے مؤقف کی حمایت میں بیانات دیتی ہیں اور والدہ کے پی ٹی آئی کا حصہ ہونے کے باوجود ایسا کرنے سے بالکل نہیں چوکتیں اور اپنے رائے کا آزادی سے اظہار کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں