پیٹرول مصنوعی قلت کیس میں عدالت کی حکومت پر سخت تنقید

لاہور(نیوز ڈیسک)یہاں سب گدھے بیٹھے ہیں، جنہیں صرف اپنا مفاد عزیز ہے، گڈ گورننس کے دعوے دار بتائیں اب حکومت کے کام بھی عدالتیں کریں، پیٹرول مصنوعی قلت کیس میں عدالت کی حکومت پر سخت تنقید، فیصلہ محفوظ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہونے پر مصنوعی قلت سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیے ہیں اور کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہاں سب گدھ بیٹھے ہیں جنہیں صرف اپنا ہی مفاد عزیز ہے،گڈ گورننس کے دعوے دار بتائیں اب حکومت کے کام بھی عدالتیں کریں،

گڈ گورننس کس چیز کا نام ہے اور حکومت کدھر ہے؟ اب شاید وقت آ رہا ہے کہ معاشرے کو بچانے کے لیے قانون سازی کی جائے، قانون ساز اداروں کو کام کرنا ہوگا۔دوران سماعت مختلف پٹرولیم کمپنیوں کےوکلا کی جانب سے دلائل دیے گئے، عدالت نے استفسار کیا کہ گڈ گورننس کس چیز کا نام ہے اور حکومت کدھر ہے؟ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں لیکن عدالتوں کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے باور کرایا کہ جب عدالت ایکشن لیتی ہے تو آنکھ کھل جاتی ہے کہ چلو کوئی کام کر لیں، عدالت دیکھے گی کہ کیا کارروائی کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے زور دیا کہ اب شاید وقت آ رہا ہے کہ معاشرے کو بچانے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔۔ قانون ساز اداروں کو کام کرنا ہوگا،،معاشرے میں گدھ بیٹھے ہیں جن کو صرف اپنا مفاد ہی عزیز ہے، ایک جہاز پہلے روکا گیا پھر اسے بندرگاہ پر لگانے کی اجازت دیکر دو ارب کا فائدہ پہنچایا گیا۔عدالت ایکٹ کے مطابق ہی فیصلہ دے گی،عدالت حتمی نتیجے پر پہنچ گئی ہےجس کا فیصلہ چند روز میں سنایا جائے گا۔واضح رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کم ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم مافیا کی جانب سے عارضی طور پر پیٹرول کی قلت پیدا کر دی گئی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے فوری اور موثر اقدامات نہ اُٹھانے کی وجہ سے پیٹرولیم مافیا اپنے اقدام میں کامیاب ٹھہرا اور عوام کو سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں