سرکاری ملازمین کی موجیں لگ گئیں ،تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کر دیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کر دیا گیا، محکمہ خزانہ پنجاب نے صوبے کے گریڈ 17 اور 18 کے ایک ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے اعلیٰ سرکاری افسران کو عید سے قبل بڑی عیدی دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ صوبے میں گریڈ 17 اور 18 کے ایک ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے، یہ وہ ملازمین ہیں جو تنخواہوں میں اضافے سے محروم تھے، جبکہ اس سے قبل گریڈ 19 سے 21 کے افسران کی تنخواہوں میں بھی ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کیا جاچکا۔

بتایا گیا ہے کہ گریڈ 17، 18 کے اسٹنٹ کمشنر ،سیکشن آفیسر ،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ،ڈپٹی سیکرٹریز ،ڈائریکٹر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے ماہانہ ڈیڑھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ جبکہ دوسری جانب دیگر گریڈز کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔پنجاب حکومت صوبے کے سرکاری ملازمین کو آئندہ مالی سال کے آغاز سے قبل ہی ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے لاکھوں سرکاری ملازمین کو عید سے قبل بڑی عیدی کی خوشخبری سنائی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایات پر تشکیل دی گئی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں سب کمیٹی نے صوبے کے کم تنخواہیں لینے والے ملازمین کو بجٹ سے قبل 25 فیصد اضافی تنخواہ دینے کی تجویز دی ہے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی میں کم تنخواہ لینے والوں کو بجٹ سے قبل چار ماہ کی تنخواہ 25 فیصد ڈسپیرٹی الائونس کے ساتھ دینے پر اتفاق رائے ہوا۔ صوبائی وزراء نے کم تنخواہ لینے والے 7لاکھ ملازمین کو 25 ڈسپیرٹی الائونس دینے کی سفارش کی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے وزیر خزانہ اجلاس میں بجٹ سے قبل 25 ڈسپیرٹی الائونس دینے کی بجائے صرف بجٹ میں ہی تنخواہوں میں اضافے پر رضامند تھے۔اجلاس میں آئندہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی جائزہ لیا گیا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین

و افسران کی تنخواہوں میں کم اضافہ کرنے کی سفارشات کی گئیں۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں کم تنخواہ لینے والوں کو زیادہ ترجیح دینے کی سفارشات پیش کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی یہ سفارشات وزیر اعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کابینہ کی متفقہ رائے کے بعد ہی 25 ڈسپیرٹی الائونس کی منظوری دیں گے۔ ذرائع کے مطابق قوی امکان ہے کہ کم تنخواہ والے ملازمین کی تنخواہوں میں بجٹ سے قبل اضافے کی سفارش منظور کر لی گئی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملک بھر کے سرکاری ملازمین نے کچھ ہفتے قبل اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ دھرنے میں سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صرف وفاقی سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ صوبوں سے بھی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں