ملک میں آکسیجن کی قلت، وزیراعظم عمران خان نے ہنگامی اقدامات کا حکم جاری کردیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ملک میں آکسیجن کی قلت کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کا ہنگامی اقدامات کا حکم، پنجاب کے بعد دیگر صوبوں کے اسپتالوں میں بھی آپریشن پر پابندی عائد ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تفصیلا ت کے مطابق ملک میں جاری کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر آکسیجن کی کل پیداوار کا 80 فیصد حصہ استعمال کیا جا رہا ہے۔کورونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے مستقبل قریب میں ہمسایہ ملک بھارت کی طرح پاکستان میں بھی آکسیجن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے آکسیجن کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہنگامی اقدامات کا حکم دیا ہے،

جبکہ ملک میں اس وقت موجود آکسیجن کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں آپریشن معطل کرنے کا حکم انہی اقدامات میں سے ایک ہے۔آکسیجن کی قلت اور کوروناکیسز میں اضافے کی وجہ سے اس بات کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ پنجاب کے بعد ملک کے دیگر صوبوں کے ہسپتالو ں میں بھی آپریشن پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ملک میں آکسیجن کی مقامی پیداوار میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آکسیجن کی اضافی پیداوار اور ملک گیرترسیل ہنگامی پلان میں شامل ہے جب کہ ‏ضیاع روکنے کیلئے آکسیجن استعمال کی گائیڈلائنز کےاجرا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی مقامی پیداوار میں 30 میٹرک ٹن یومیہ اضافہ کیاجائےگا، آکسیجن ‏پیداوار بڑھانے کیلئے مینوفیکچررز سے اپیل کی جائےگی اور مینوفیکچررز سےمزید آکسیجن پلانٹس ‏چلانےکی اپیل کی جائےگی۔انڈسٹری سےآکسیجن کی ہیلتھ سیکٹر کو منتقلی کا ہنگامی پلان بھی تیار کیا گیا ہے، ہنگامی حالت ‏میں صنعتی شعبےکی بیشترآکسیجن ہیلتھ سیکٹر کو ملےگی، کم ضروری صنعتوں سےآکسیجن ہیلتھ ‏سیکٹرکومنتقل کیاجائےگا۔ملکی پیداوار کا 80 فیصدآکسیجن ہیلتھ سیکٹر اور 20 فیصد صنعت کو مل رہا ہے، کوروناکی تیسری ‏لہرمیں آکسیجن کےاستعمال میں60فیصداضافہ ہوا ہے۔آکسیجن کاغیرضروری استعمال روکنےکیلئےسنجیدہ اقدامات کافیصلہ کیا گیا ہے۔ صنعت،ہیلتھ ‏سسٹم کی آکسیجن کی طلب اور رسد کا سینٹرل ریکارڈ تیار ہو گا، صنعتکاروں کی مشاورت ‏سےآکسیجن بچت پلان تیارکیےجائیں گے، صنعتی شعبےمیں غیرضروری استعمال روک کرآکسیجن ‏بچت ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں