محمد بن سلمان نے صرف 5برسوں میں سعودی عرب کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا

ریاض(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بعد عبدالعزیز نے مملکت پانچ سال کے دوران ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا ہے۔ ان کے متعارف کرائے گئے سعودی ویژن 2030ء منصوبے کے پروگراموں نے صرف پانچ برسوں کے دوران غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ العربیہ نیوز کے مطابق سعودی ویژن کے اجراء کے پانچ سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق ویژن 2030ء کے آغاز کے بعد مملکت میں 4 گھنٹوں کے دوران صحت کے متعلق ہنگامی خدمات کی فراہمی کا تناسب 87 % سے زیادہ ہو گیا ہے۔

ویڑن کے آغاز سے قبل یہ تناسب 36% تھا۔ ۔ ٹریفک حادثات میں سالانہ اموات کی شرح ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 28.8 سے کم ہو کر 13.5 ہو گئی ہے۔مملکت میں رہائشی یونٹوں کی ملکیت کا تناسب 60% ہو گیا ہے جو پانچ برس قبل 47% تھا۔ سال 2020ء میں مملکت میں دورہ کرنے کے قابل تاریخی ورثے کے مقامات کی تعداد 354 تک پہنچ گئی۔ سال 2017ء میں یہ تعداد 241 مقامات تک محدود تھی۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کے پاس فہرست میں درج مملکت کے عناصر کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ ویژن پروگرام سے قبل یہ تعداد صرف 3 تھی۔ اسی طرح قومی ثقافتی ورثے کے ضمن میں درج شہرے ورثے سے متعلق مقامات کی تعداد 2020ء میں 1000 تک پہنچ گئی۔اس کے مقابل 2016ء میں یہ تعداد صرف 400 تھی۔ ۔ حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور اللہ کے مہمانوں سے متعلق خدمات کے نظام کے جائزے کے مطابق عمرے کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے درکار وقت کو صرف 5 منٹ کر دیا گیا ہے جب کہ پہلے اس میں 14 روز لگ جاتے تھے۔ برقی سیاحتی ویزہ شروع کیا گیا جس کے لیے چند منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس طرح مملکت میں سیاحتی اور آثار قدیمہ و تاریخی ورثے سے متعلق مقامات کا دورہ آسان ہو گیا ہے۔اس کے نتیجے میں مملکت میں سیاحتی سیکٹر عالمی سطح پر سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا بن گیا۔ اس سیکٹر میں 14% کی نمو ریکارڈ کی گئی۔۔ کونسل نے گذشتہ پانچ برسوں کے دوران مملکت میں مقامی اور عالمی سطح کی کھیلوں کی اور تفریحی سرگرمیوں کے انعقاد کا بھی جائزہ لیا۔

سال 2020ء تک کھیلوں اور ثقافت سے متعلق 2000 سے زیادہ سرگرمیاں منعقد ہوئیں جن میں 4.6 کروڑ سے زیادہ افراد آئے۔اس کے نتیجے میں گذشتہ برس کے اختتام تک روزگار کے ایک لاکھ مواقع پیدا ہوئے۔ ۔ سعودی عرب 2020ء کے دوران میں دنیا بھر میں نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سرفہرست رہا۔ گذشتہ برس اس پانی کی تیاری کا یومیہ حجم 59 لاکھ مکعب میٹر رہا۔ مملکت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو بھی خاطر خواہ طور پر کم کیا گیا۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے سعودی ولی عہد کی جانب سے "گرین سعودی عرب” اور "گرین مڈل ایسٹ” منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔۔

سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے اثاثے 2020ء کے اختتام تک 15 کھرب ریال تک پہنچ گئے۔ سال 2015ء میں ان کا حجم 570 ارب ریال سے زیادہ نہیں تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2015ء سے عالمی سطح پر غیر ملکی سرمایہ کاری میں 58% کی کمی آئی تھی جب کہ سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 17.625 ارب ریال ہو گیا۔ ویژن 2030ء شروع ہونے سے قبل یہ حجم 5.321 ارب ریال تھا۔اس طرح مذکورہ سرمایہ کاری میں 331% کا اضافہ ہوا۔ ۔ اسی دوران میں عالمی معیار کے بین الاقوامی منصوبے بھی متعارف کرائے گئے۔ ان میں نیوم، القدّہ اور بحر احمر کے منصوبے اہم ترین ہیں۔

۔ سال 2020ء میں مملکت کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب 33.2% تک ہو گیا جب کہ 2017ء میں یہ تناسب 19.4% تھا۔ ۔ ویژن پروگرام کے آغاز کے بعد مملکت کی مجموعی مقامی پیداوار میں نان آئل پیداوار کا تناسب گذشتہ برس کے اختتام پر 59% تک پہنچ گیا۔سال 2016ء کے اختتام تک یہ تناسب 55% تھا۔ سال 2020ء کے اختتام پر نان آئل ریونیو کا حجم پانچ برس میں 222% اضافے کے ساتھ 369 ارب ریال ہو گیا۔ اس سے قبل 2015ء کے اختتام پر یہ حجم 166 ارب ریال تھا۔ ۔ ویژن 2030ء سے قبل مملکت میں کارخانوں کی تعداد 7206 تھی جب کہ اب یہ تعداد 38% اضافے کے ساتھ 9984 کارخانوں تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی عرب نے ڈیجیٹل اکانومی کے میدان میں بھی ترقی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔مملکت نے 5G انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سال 2020ء کے اختتام تک مملکت کے شہری علاقوں میں 35 لاکھ گھروں کو فائبر آپٹک انٹرنیٹ سے جوڑ دیا گیا۔ اس سے قبل 2017ء میں ان گھروں کی تعداد 12 لاکھ تھی۔ ۔ ویژن 2030ء کے منصوبے کے دوران میں مملکت میں توانائی کے متعدد اہم اور بڑے پروگرام شروع کیے گئے۔ ان پروگراموں کی توانائی کی مجموعی پیداوار کا اندازہ 3600 میگا واٹ لگایا گیا ہے۔اس طرح 6 لاکھ سے زیادہ رہائشی یونٹوں کو بجلی فراہم ہو گی۔۔ مملکت میں جامعات اور کالجوں کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔ اس دوران میں شائع ہونے والی علمی تحقیقات میں 223% کا اضافہ ہوا۔ ۔ عسکری صنعت کے شعبے میں قومی سطح پر شرکت کو بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سیکٹر میں 2020ء کے اختتام پر مقامی لوگوں کی شرکت کا تناسب 8% تک پہنچ گیا ہے۔اس سے قبل 2016ء میں یہ تناسب صرف 2% تھا۔ ۔ سرکاری اداروں اور شہریوں کی سطح پر احتساب کا کلچر مضبوط ہو رہا ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران میں بدعنوانی کے انسداد کی کوششوں کے ذریعے 247 ارب ریال قومی خزانے میں واپس لوٹائے گئے۔ سال 2019ء کے بعد سے مختلف سیکٹروں میں 4.22 لاکھ سعودی مرد اور خواتین شہریوں کو ملازمتیں فراہم ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں