سپریم کورٹ نےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسٰی نظرثانی کیس میں تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں حکم دیا گیا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے اہلخانہ کی جائیدادوں سے متعلق تحقیقات نہیں ہوسکتیں، سپریم جوڈیشل کونسل، ایف بی آر یا کوئی فورم قاضی فائزعیسیٰ کے اہلخانہ کیخلاف کارروائی نہیں کرےگا، ایف بی آر کی تحقیقات اوررپورٹس غیرقانونی قراردی جاتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائزعیسٰی نظرثانی کیس میں تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت جسٹس فائزعیسیٰ نظرثانی کی تمام درخواستیں چھ چار کے تناسب سے منظور کی جاتی ہیں۔

ایف بی آر کی تحقیقات اور معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔جسٹس یحیٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی انفرادی درخواست خارج کی اور دیگر تمام نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے اضافی نوٹ لکھا جس میں بتایا کہ 19جون اور23 اکتوبر2020 کے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تحقیقات غیرقانونی ہیں۔ایف بی آر کے تمام اقدامات، تحقیقات، رپورٹس غیرقانونی قرار دی جاتی ہیں۔ اسی طرح اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی ںہیں کرسکتی۔ ایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد، فیصلہ اور اقدامات قانون کے دائرے سے خارج قرار دیے جاتے ہیں، ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پر سپریم جوڈیشل کونسل یا کوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا۔سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلہ دیا کہ 19جون 2020 کا مختصر فیصلہ خارج کیا جاتا ہے۔ 19 جون 2020 کے فیصلے کے بعد کی تمام تحقیقات کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، سپریم کورٹ نے مختصر تحریری فیصلے میں حکم دیا کہ ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پرسپریم جوڈیشل کونسل یا کوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا

جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی کی تمام درخواستیں چھ چار کے تناسب سے منظور ہوئیں جبکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی انفرادی درخواست 5 ججز نے منظور اور 5 نیخارج کی۔ تحریری حکم نامے میں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا، ایف بی آر کی تحقیقات بھی کالعدم قرار دی گئیں۔ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی نہیں کرسکتی۔اکثریتی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں تمام نظرثانی اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ کا 19جون 2020 کا مختصر فیصلہ خارج کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے 19 جون 2020

کے فیصلے کے بعد کی تمام تحقیقات کالعدم قراردی جاتی ہیں۔اکثریتی فیصلے میں ایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد، فیصلہ اوراقدامات قانون کے دائرے سے خارج قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پرسپریم جوڈیشل کونسل یاکوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا۔ جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ تحریری حکم میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی انفرادی درخواست خارج کی اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے دیگر تمام نظرثانی درخواستوں کی

حمایت کرتے ہوئے اضافی نوٹ لکھا۔اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ 19جون اور23 اکتوبر2020 کے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرتحقیقات غیرقانونی ہیں، ایف بی آر کے تمام اقدامات، تحقیقات اور رپورٹس غیرقانونی قرار دی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا، بینچ میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔ جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس امین الدین خان بھی لارجر بینچ کا حصہ تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں