اسد قیصرکی جگہ اگر میں ہوتا تو شاہد خاقان عباسی کو پارلیمنٹ سے باہر نکال دیتا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) شاہد خاقان عباسی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے جبکہ حکومتی ارکان ان سے باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔پارلیمنٹ میں کئی بار ایسے معاملات ہو جاتے ہیں کہ بحث مباحثے میں ایک دوسرے پر کڑی تنقید کر دی جاتی ہے مگر آج تک کچھ ایسا نہیں ہوا کہ ایک معزز ممبر اسمبلی اور پاکستان کا سابق چیف ایگزیکٹو اسپیکر قومی اسمبلی سے یہ کہے کہ میں آپ کو جوتا دے ماروں گا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔اس پر حکومتی ارکان سخت غصے میں نظر آتے ہیں جبکہ ن لیگ کے ارکان بھی غصے میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے فلور

پر انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرفواد چودھری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہاکہ شاہد خاقان عباسی کو اپنے رویے اور طرز گفتگو پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ اس قسم کی گفتگو پارلیمنٹ کے فلور پر مناسب نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر شریف آدمی ہیں جبکہ میں اور مزاج کا بندہ ہوں اگر ان کی جگہ میں ہوتااور میرے ساتھ ایسی گفتگو کی جاتی تو میں انہیں اسمبلی سے بھی باہر نکال دیتا۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی اسپیکر نے کئی لوگوں کو پانچ چھے دنوں کے لیے اسمبلی سے نکال دیا تھااور اب بھی وہ ایسا کر سکتے ہیں،ان کی جگہ اگر میں ہوتا تو میں کبھی بھی چپ نہ رہتااور انہیں اسمبلی میں آنے پر بین کر دیتا۔فواد چودھری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے راہنماؤں کی طرز گفتگو ایسی ہے اورناموس رسالت جیسے سنجیدہ موضوع پر پیش کی جانے والی قرارداد پر گفتگو کرنے کے لیے ان کا رویہ ایسا ہے تو آپ اندازہ لگائیں کہ باقی معاملات میں وہ کیا کرتے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہر معاملے میں تنقید کرتی اور ہر قانون کے پاس ہونے میں رکاوٹ ڈالتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور انہیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے ساتھ بولے جانے والے الفاظ پر شاہد خاقان عباسی کو معافی مانگنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں