آپ اسپیکر قومی اسمبلی کی بات کر رہے ہیں میں کہتا ہوں چیئرمین سینیٹ کو بھی جوتے پڑ سکتے ہیں،شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک لبیک کے ساتھ حکومت کی جو دھینگا مشتی ہوئی اس کے آفٹر شاکس ابھی تک آنے باقی ہیں کیونکہ تحریک لبیک کے سربراہ کو بھی ابھی تک رہا نہیں کیا گیااور نہ ہی گرفتار کارکنان کی رہائی ممکن ہو پائی ہے۔جبکہ تحریک لبیک کے ساتھ کیا گیا معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے قومی اسمبلی میں پچھلے دنوں قرارداد جمع کرائی گئی جس پر اسمبلی میں ہنگامہ بپا ہو گیااور اسی گرما گرمی میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ لفظی گولہ باری میں کہہ ڈالا کہ میں آپ کو جوتا ماروں گا۔بس اس کے بعد کیا تھا کہ ہر ٹی وی ٹاک شو اور

سوشل میڈیا پر اسی بات کے چرچے ہونے لگے اور ایوان میں اور باہر شاہد خاقان عباسی سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا۔جبکہ شاہد خاقان عباسی اور دیگر ن لیگ کے قائدین نے معافی مانگنے سے صاف انکار کردیااور کہا کہ اگر ناموس رسالتﷺ پر ہمیں بات نہیں کرنے دی جائے گی تو ہم سچ میں بھی جوتا مار دیں گے۔اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکرپرسن حامد میر نے نجی ٹی وی چینل کے اپنے پروگرام میں شاہد خاقان عباسی کو مدعو کر کے ان سے یہ پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو ا س پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر مجھے ناموس رسالت پر بولنے نہیں دیا جائے گا تو میں ایسا ہی کروں گا۔انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ میں اس بات پر بولوں گا بھی سہی اگر کسی کی جرات ہے تو مجھے روک کر دکھائے۔اگر اسپیکر قومی اسمبلی نے مجھے روکا تو اب بات جوتے سے بھی آگے جائے گی۔حامد میر نے جب ٹوکااور پوچھا کہ آپ دھمکی دے رہے ہیں اور جوتا مارنے سے آگے کیا ہو سکتا ہے تو اس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا یہ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ میں سچ میں کر دکھاؤں گا اگر مجھے ناموس رسالت پر بات نہ کرنے دی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ تو اسپیکر کی بات کر رہے ہیں وگرنہ جو کچھ سینیٹ میں ہو رہا ہے وہاں پر چیئرمین سینیٹ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔لہٰذا انہیں چاہیے کہ یہ اپوزیشن کی بات سنیں وگرنہ معاملات بگڑ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں