جہانگیر ترین کے حامی سامنے آنیوالی تعداد سے زیادہ نکلے، حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئرصحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا کہ جھنگ کے دو ایم این ایز کی جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے حامیوں کی تعداد جتنی نظر آتی ہے اس سے زیادہ ہے ۔ان کے حامی ڈٹ کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ک چھ لوگ استعفے دینے کے لیے بھی تیارہیں۔اگر جہانگیر ترین کے حامی کھڑے ہوجائیں تو حکومت گر سکتی ہے ۔ ملک میں کورونا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہارون الرشید نے کہا کہ یہ خیرات کی ویکسین کا انتظار کرتے رہے ، پاکستان کو چالیس ،

پچاس ارب روپے کی ویکسین چاہئیے تھی،اگر یہ روس اور چین سے کہتے تو وہ انہیں ادھار پر دے دیتے ۔ لوگوں کا یہ حال ہے مرنے کے لیے تیار ہیں مگر ماسک پہننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔بھارت میں جو کورونا ہے وہ ڈی ٹیکٹ ہی نہیں ہوتا، وہ برطانوی کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ حکومت تو اس کی ذمہ دار ہے ہی مگر اس کی زیادہ ذمہ دار قوم ہے ۔ انہوں نے فوج طلب کرنے کے وزیراعظم عمران خان کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج کو نہ بلایا جاتا تو دو چار ہفتے میں بڑے شہر بند کرنا پڑتے ۔ بھارت اس وقت پورے کا پورا شمشان گھاٹ بن چکا ہے،اس کی وجہ جہالت ہے ،انہوں نے آکسیجن برآمد کردی۔کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی سے متعلق ہارون الرشید نے کہا کہ سعد رضوی تو بہت دانا آدمی ثابت ہوا ۔ اس نے تو کہا بے شک مجھے جیل میں رکھیں، اگر حکومت دانا ہوتی تو اسے گیسٹ ہاؤس میں منتقل کرتے ۔ اسے ساری سہولتیں دیتے ۔ اس نے 27سال کی عمرمیں باپ سے زیادہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سعد رضوی سے بات کرنی چاہئیے ،وہ معقو ل رویہ اختیار کرنے کے لیے آمادہ ہیں ورنہ جوماحول بن چکا ہے اس میں تحریک چلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں