قومی اسمبلی اجلاس، متعدد اپوزیشن و حکومتی ارکان کالعدم تحریک لبیک کی آواز بن گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومتی اراکین قومی اسمبلی نے بھی فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کردیا ہے۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان چلانے دیں۔پہلے وقفہ سوالات پورا ہونے دیں وہ بعد میں موقع دیں گے۔اپوزیشن ارکان نے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا، اپوزیشن ارکان لبیک یارسول اللہ اور تاجدار ختم نبوت ﷺ کے نعرے لگاتے رہے، بعض اراکین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

دوسری جانب حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے بھی فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔حکومتی ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا پلے کارڈ لہرایا اور حکومتی اراکین کی جانب سے تاجدار ختم نبوت ﷺ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ بعد ازاں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے ایوان کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو خطوط ارسال کر دیے ہیں اور فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کی قرارداد پر غور کے لیے مجوزہ خصوصی کمیٹی میں شمولیت کے لیے ان سے اپنے اراکین کے نام تجویز کرنے کے لیے کہا ہے۔حالانکہ بعض اپوزیشن جماعتوں نے خصوصی کمیٹی کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان کے اندر اس قرارداد پر مکمل بحث کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ہر رکن کو اظہار خیال کا موقع مل سکے۔ پاکستان قومی اسمبلی کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق ”اسمبلی سکریٹریٹ نے اسپیکر اسد قیصر کی ہدایات پر فرانسیسی جریدے میں یکم ستمبر کو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر خصوصی کمیٹی کے لیے نام مانگ لیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں