وہ کلمہ گو نہیں ہے لیکن۔۔۔چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ کی تاجروں کوسکھ دوکاندار کی تقلید کی ہدایت

پشاور(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے مسلمان تاجروں کو رمضان کے مقدس مہینے میں کم قیمت میں اشیا خوردونوش فروخت کرنے والے سکھ دکاندار کی تقلید کرنے کی تلقین کر دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبر میں ایک سکھ دکاندار ہے جو رمضان میں عوام کو کم قیمت پر اشیا فراہم کررہے ہیں اس مہینے منافع نہیں کما رہے۔چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر خیبر کو سکھ دکاندار کے پاس جانے اور ان کا حوصلہ افزائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ وہ کلمہ گو

نہیں ہے لیکن اس کو اس رمضان کے مقدس مہینے کا احساس ہے دوسروں تاجروں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہئے۔تفصیلات کے مطابق اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت پشاورہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،وفاقی سیکرٹری خوراک،صوبائی مشیر خوراک، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور اے اے جی سید سکندر حیات شاہ عدالت میں پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ نے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، کل بھی 27 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ اوپن مارکیٹ میں چینی 96 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ سرکاری ریٹ پر چینی کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں، ہم نے 10 لاکھ سے زائد جرمانے بھی لگائے ہیں۔عدالت نے کہاکہ سیکرٹری صاحب اشیا خوردنوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے، مہنگائی کی وجہ سے عوام مشکلات میں ہیں، گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اس کیلئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔سیکرٹری خوراک نے کہاکہ پولٹری اور گوشت کی پیدوار میں کمی کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہوا ہے، چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہاکہ پیداوار میں کمی ہوئی ہے تو آپ ایکسپورٹ کو کم کردے تاکہ ملکی ضروریات پوری ہوں۔واضح رہے کہ ہر سال شکایت کی جاتی ہے کہ ماہ مقدس میں ناجائز منافع خوری چھوڑنے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔کاروباری حضرات مختلف اشیاء خاص کر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں من مانا اور ہوشربا اضافہ کر دیتے ہیں۔

ایسے میں مقامی کاروباری افراد کو مثال دی جاتی ہے کہ کیسے دنیا کے دوسرے ممالک میں رمضان المبارک کے دوران اشیاء مہنگی کرنے کی بجائے مزید سستی کر دی جاتی ہیں، لیکن پاکستان میں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔تاہم جہاں ملک بھر میں رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کا طوفان برپا ہوتا ہے، وہیں خیبرایجنسی کے علاقے جمرود میں رہائش پذیر ایک سکھ خاندان گزشتہ 40 سال سے رمضان المبارک کے دوران مسلمان گاہکوں کو انتہائی کم قیمت پر کھانے پینے کی اشیاء فراہم کر رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ جمرود کے نرنجن سنگھ اور اس کے خاندان نے ماہ مقدس کے دوران منافع

خوری سے توبہ کر رکھی ہے۔ نرنجن سنگھ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران اپنی دکان پر کھانے پینے کی اشیاء حکومت نرخوں سے بھی کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہے، جبکہ مسلمانوں کے احترام میں دکان جمعہ کے روز بند رکھی جاتی ہے۔ نرنجن سنگھ کا بتانا ہے کہ وہ ناصرف کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت پر فروخت کو یقینی بناتے ہیں، بلکہ اس بات کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں اشیاء صاف ستھری اور معیاری ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں